عبداللہ شفیق کی ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں 160 رنز کی شاندار اننگز نے نہ صرف ان کی بطور ابھرتے ہوئے بلے باز ساکھ کو مستحکم کیا بلکہ پاکستان کرکٹ کے لیے تقریباً نصف صدی سے جاری ایک تلخ ریکارڈ کا سلسلہ بھی توڑ دیا۔ کیریبین سرزمین پر ایک مشکل ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے عبداللہ شفیق کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان 1977 کے بعد پہلی بار ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوا۔
یہ فتح ایک طویل انتظار کا اختتام ہے۔ گزشتہ 49 برسوں سے پاکستانی ٹیم کیریبین کا دورہ کرتی رہی لیکن سیریز جیتنا خواب ہی رہا۔ اکثر مواقع پر پاکستانی بلے باز کیریبین پچوں پر تیز گیند بازوں کے سامنے بے بس نظر آئے یا پھر اننگز کے آخری لمحات میں ٹیم کا ڈھانچہ گر گیا۔ شفیق نے اپنی پرسکون اور تکنیکی مہارت سے اس طویل قحط کو بالآخر ختم کر دیا۔
جب وہ کریز پر آئے تو اسکور بورڈ پر صورتحال دباؤ کا شکار تھی۔ ویسٹ انڈیز کے باؤلرز درست لائن اور لینتھ پر گیندیں کر رہے تھے اور پچ سے ملنے والی مدد بلے بازوں کو مسلسل امتحان میں ڈال رہی تھی۔ عام طور پر اس مرحلے پر بلے باز صرف وکٹ بچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر عبداللہ شفیق کا انداز مختلف تھا۔
انہوں نے نہ صرف اسٹرائیک روٹیٹ کی بلکہ خراب گیندوں کو ٹھکانے لگا کر میزبان ٹیم کے حوصلے پست کر دیے۔ ان کی 160 رنز کی اننگز 284 گیندوں پر محیط تھی، جو ان کے پختہ مزاج کی عکاسی کرتی ہے۔ جب وہ آؤٹ ہوئے، تب تک میچ کا پانسہ پلٹ چکا تھا اور پاکستان کے لیے جیت کا راستہ ہموار ہو چکا تھا۔
سیریز کے ابتدائی میچوں میں ناقدین نے کیریبین پچوں پر ان کی تکنیک پر سوال اٹھائے تھے۔ شفیق نے ان سوالوں کا جواب اپنی ڈسپلن اور دیر سے شاٹ کھیلنے کی صلاحیت سے دیا۔ ان کی بیٹنگ میں کوئی غیر ضروری رسک یا جلد بازی نظر نہیں آئی، بلکہ یہ ٹیسٹ کرکٹ کا ایک ایسا کلاسیکی نمونہ تھا جس نے ویسٹ انڈیز کے کپتان کو دفاعی فیلڈنگ سیٹ کرنے پر مجبور کر دیا۔
یہ فتح ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کرتی ہے۔ پوائنٹس سے قطع نظر، یہ نفسیاتی رکاوٹ کا ٹوٹنا ہے جو سب سے اہم ہے۔ تقریباً پانچ دہائیوں تک کیریبین پچوں کو پاکستانی بلے بازوں کے لیے قبرستان سمجھا جاتا رہا۔
میچ کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے عبداللہ شفیق نے کہا، "میری کوشش صرف کریز پر ٹھہرنے کی تھی۔” ان کا یہ عاجزانہ انداز ہی شاید ان کی کامیابی کا راز ہے، جہاں ان سے پہلے کئی بڑے نام ناکام ہو چکے تھے۔
قومی ٹیم اب ایک ٹرافی کے ساتھ گھر واپس لوٹے گی، مگر ساتھ میں وہ 49 سالہ خوف بھی ختم ہو گیا ہے جس نے دہائیوں تک پاکستانی ٹیم کو پریشان رکھا۔ یہ فتح اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب دنیا کی مشکل ترین پچوں پر بھی حریف کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
