بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مالی امداد حاصل کرنے والے خاندانوں کے لیے بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ پروگرام کی انتظامیہ نے یہ قدم ادائیگیوں کے عمل میں شفافیت لانے اور رقوم کی غیر قانونی کٹوتیوں کو روکنے کے لیے اٹھایا ہے۔
نئی ہدایات کے مطابق، تمام مستحقین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے قریبی بی آئی ایس پی تحصیل دفاتر یا مجاز بینک برانچوں پر جا کر اپنے انگوٹھے کے نشانات کی تصدیق کروائیں۔ حکام کا موقف ہے کہ یہ اقدام ان "بیچولیوں” کا راستہ روکے گا جو غریبوں کے وظیفے سے غیر قانونی طور پر کٹوتی کرتے ہیں۔
ان ادائیگیوں پر انحصار کرنے والے لاکھوں خاندانوں کے لیے یہ عمل بوجھ بن گیا ہے۔ ادائیگی کے مراکز پر لمبی قطاریں اور تکنیکی خرابیوں کے باعث مستحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی افراد کی شکایت ہے کہ انہیں پیشگی اطلاع دیے بغیر ہی ان کے اکاؤنٹس "ڈیٹا مس میچ” کی وجہ سے بلاک کر دیے گئے ہیں۔
پنجاب کے ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک مستحق شخص کا کہنا ہے، "میں نے ضلعی دفتر کے تین چکر لگائے لیکن ہر بار یہی کہا گیا کہ انگوٹھے کے نشانات ڈیٹا بیس سے نہیں مل رہے۔ اس رقم کے بغیر میرے پاس ہفتے بھر کا آٹا خریدنے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔”
بی آئی ایس پی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تصدیق فہرستوں کو شفاف بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ایسے ہزاروں افراد جو اب مالی طور پر مستحکم ہو چکے ہیں یا جن کے اثاثے پروگرام کی مقرر کردہ حد سے زیادہ ہیں، انہیں فہرست سے نکالنا ضروری ہے۔
یہ پروگرام، جو اس وقت 90 لاکھ سے زائد خاندانوں کے لیے واحد سہارا ہے، شفافیت کے حوالے سے سخت دباؤ میں ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے ماضی میں کیش ٹرانسفر کے عمل میں ریئل ٹائم ٹریکنگ کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس بائیومیٹرک آڈٹ کے ذریعے حکومت ان تحفظات کو دور کرنے اور اخراجات میں کمی لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
جن مستحقین نے مقررہ تاریخ تک اپنی تصدیق نہیں کروائی، ان کے اکاؤنٹس غیر معینہ مدت تک معطل کیے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ حکومتی سطح پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ عمل سادہ اور آسان ہے، لیکن عملی طور پر یہ محدود وسائل رکھنے والے افراد کے لیے ایک کٹھن امتحان بن چکا ہے۔
فی الحال پالیسی واضح ہے: بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر ادائیگی ممکن نہیں۔ اب ثابت کرنے کی ذمہ داری مکمل طور پر مستحقین پر عائد ہوتی ہے۔
