راولپنڈی: سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعرات کو بتایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں کارروائیاں جاری انسداد دہشت گردی مہم ردالفساد 3 کے تحت کی گئیں، جس کا مقصد حکام کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ 5 اگست کو واشک میں سکیورٹی فورسز نے چھ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے تمام چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
دوسری جانب 6 اگست کو مستونگ میں کیے گئے ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں مزید چھ دہشت گرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی ایک کمین گاہ بھی تباہ کر دی گئی۔
پاک فوج کے مطابق یہ کارروائیاں قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے جاری عزمِ استحکام فریم ورک کے تحت کی جا رہی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
حالیہ کارروائیاں ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہیں جب سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک آپریشن کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کرنے اور دھماکا خیز مواد سے لدی دو گاڑیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ جمعرات کو ہونے والی اس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے بارودی مواد سے لیس دو گاڑیوں کی نقل و حرکت روکی اور انہیں آپریٹ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی۔
پاکستان میں 2021 کے بعد سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جہاں سکیورٹی سے متعلق چیلنجز مسلسل برقرار ہیں۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان ملک میں تشدد سے ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں شامل رہے اور دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر ملک بھر میں ہونے والی تقریباً 96 فیصد ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں مجموعی ہلاکتوں کا 61 فیصد سے زیادہ، یعنی 475 اموات ریکارڈ ہوئیں، جبکہ بلوچستان میں 265 افراد ہلاک ہوئے جو مجموعی تعداد کا تقریباً 34 فیصد بنتے ہیں۔
اسی عرصے کے دوران خیبر پختونخوا میں تشدد کے 151 واقعات رپورٹ ہوئے، جو ملک بھر میں پیش آنے والے ایسے واقعات کا 57 فیصد تھے، جبکہ بلوچستان میں 94 واقعات ریکارڈ کیے گئے جو قومی سطح پر مجموعی واقعات کا 35 فیصد بنتے ہیں۔
رپورٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں عسکریت پسندی اور سکیورٹی سے متعلق بیشتر چیلنجز بدستور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مرکوز ہیں۔
