یورپ اس وقت ایک ایسے سنگین دوراہے پر کھڑا ہے جہاں جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور نقل مکانی کے بحرانوں نے یورپی یونین کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بحیرہ روم کے ساحلوں پر لگی آگ ہو، یوکرین کی سرحدوں پر جاری تنازع یا پھر غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد، براعظم ایک مربوط ردعمل دینے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
یورپی سرحدی ایجنسی ‘فرنٹیکس’ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق غیر قانونی داخلوں کی شرح 2016 کے بعد بلند ترین سطح پر ہے۔ دوسری جانب، یونان، اٹلی اور اسپین میں ہیٹ ویوز اور جنگلات میں لگنے والی آگ نے ہزاروں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپی ریاستوں کے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی مشترکہ انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔
برسلز اس وقت شدید سیاسی کھنچاؤ کا شکار ہے۔ مشرقی یورپی ممالک کی توجہ کا مرکز روس سے ملحقہ سرحدوں کی سیکیورٹی ہے، جبکہ جنوبی ممالک مطالبہ کر رہے ہیں کہ مہاجرین کے بوجھ کو صرف ان تک محدود نہ رکھا جائے۔ حال ہی میں جب یورپی یونین نے مہاجرین کے حوالے سے ایک نئے معاہدے پر پیش رفت کی کوشش کی تو ہنگری اور پولینڈ جیسے ممالک کے تحفظات نے پورے عمل کو تعطل کا شکار کر دیا۔
انسانی المیہ اب شدت اختیار کر چکا ہے۔ بحیرہ روم میں امدادی آپریشنز اپنی صلاحیت سے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہونے والی نقل مکانی اب ایک حقیقت بن چکی ہے۔ جنوبی یورپ کے کسانوں کی فصلیں اور روزگار جل کر راکھ ہو رہے ہیں، جس سے اندرونی نقل مکانی کا ایک نیا بحران جنم لے رہا ہے۔
برسلز میں مقیم پالیسی تجزیہ کار جولین میئر کا کہنا ہے، "ہم ایک مجموعی اثر کا سامنا کر رہے ہیں۔ یورپی نظام کو استحکام کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، مگر اب اسے مستقل ہنگامی حالت میں کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔”
ماہرین کا ماننا ہے کہ یورپ کا موجودہ ‘ٹکڑوں میں بٹا ہوا’ ردعمل ناکام ہو رہا ہے۔ یورپی کمیشن پناہ گزینوں کی درخواستوں کی تیز تر کارروائی اور سرحدوں پر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دے رہا ہے، لیکن رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کا فقدان اسے بے اثر کر رہا ہے۔ مقامی سطح پر دائیں بازو کی سیاست کے ابھرنے کے خوف سے کئی حکومتیں اپنی سرحدیں بند کر رہی ہیں، جو یورپی یونین کے ‘آزادانہ نقل و حرکت’ کے بنیادی تصور کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
جیسے جیسے موسم گرما کی شدت بڑھ رہی ہے اور یوکرین تنازع کے حل کے آثار معدوم ہوتے جا رہے ہیں، یورپ کی قوتِ برداشت آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ یورپی یونین ان میں سے کسی ایک بحران سے کیسے نمٹے گی، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کے ادارے ان تینوں بحرانوں کا بوجھ ایک ساتھ اٹھانے کی سکت رکھتے ہیں؟
فی الحال، یورپی قیادت کی حکمت عملی صرف ردعمل تک محدود ہے۔ آگ بجھاؤ، آنے والوں کو سنبھالو اور امید رکھو کہ سیاسی دراڑیں مستقل تقسیم میں نہ بدل جائیں۔
