کراچی: وافل چین کے مالک میر رضا علی کے اہلخانہ نے ان کے جسد خاکی کے دوبارہ طبی معائنے اور پوسٹ مارٹم کے لیے تشکیل دیے گئے نئے میڈیکل بورڈ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کر لیا، جس کے بعد جمعے کو میت کی تدفین کے بعد معائنہ کرنے کا عمل روک دیا گیا۔
اہلخانہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دائر کرتے ہوئے نئے پانچ رکنی میڈیکل بورڈ کو مسترد کیا اور مطالبہ کیا کہ پہلے سے تشکیل دی گئی آٹھ رکنی ٹیم کو بحال کیا جائے، جسے عدالت کی ہدایت کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب جوڈیشل مجسٹریٹ نے 25 سالہ میر رضا علی کی قبر کشائی کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آنے والی مبینہ خامیوں اور تضادات کے بعد دیا گیا۔
میر رضا علی کو مبینہ طور پر پی ای سی ایچ ایس کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد گزشتہ ہفتے گلستان جوہر میں ایک شادی ہال کے قریب ان کی لاش ملی۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور موت کے حالات کا تعین کرنے کی کوشش جاری ہے۔
ابتدائی طور پر دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، تاہم قبر کشائی سے قبل رات گئے جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اس ٹیم کو تبدیل کرکے پانچ رکنی بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔ نئے بورڈ میں پہلے پینل سے صرف ڈاکٹر ثمینہ سید کو برقرار رکھا گیا۔
نئے میڈیکل بورڈ میں ڈاؤ یونیورسٹی کے شعبہ فرانزک میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ذکی الدین، لیاقت یونیورسٹی جامشورو کے پروفیسر ڈاکٹر قاضی اکبر، پیتھالوجسٹ ڈاکٹر عابد حسین، حیدرآباد کے پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم اور ڈاکٹر ثمینہ سید شامل ہیں، جو بورڈ کی کنوینر بھی ہیں۔
میر رضا علی کے اہلخانہ نے نئے بورڈ کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پانچ رکنی ٹیم عدالت کی ہدایت کے برخلاف تشکیل دی گئی اور اس تبدیلی کے لیے اہلخانہ کی رضامندی بھی حاصل نہیں کی گئی۔
میر رضا کے والد میر حسین نے قبرستان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاندان نئے بورڈ کے تحت قبر کشائی کی اجازت نہیں دے گا اور صرف پہلے تشکیل دیے گئے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو تسلیم کرے گا۔
انہوں نے پولیس کی تفتیش پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیس کے حوالے سے مختلف اوقات میں مختلف مؤقف سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی قبر کشائی ضرور کرائیں گے، تاہم یہ عمل ان کی خواہش کے مطابق پہلے میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔
اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے بھی پولیس سرجن کو ایک ہنگامی خط ارسال کرتے ہوئے نئے میڈیکل بورڈ پر اعتراض کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ قانونی ورثا نے نئے پینل کے ذریعے قبر کشائی کی اجازت نہیں دی اور اس کی تشکیل عدالت کے حکم اور متعلقہ میڈیکو لیگل قوانین سے متصادم ہے۔
جبران ناصر نے خبردار کیا کہ اگر نئے بورڈ کے ذریعے قبر کشائی کی گئی تو خاندان قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے تحقیقات کے بعض دیگر پہلوؤں پر بھی سوال اٹھائے، جن میں نئی تفتیشی ٹیم کی تشکیل، مدعی کا بیان ریکارڈ کرنے میں مبینہ تاخیر اور عدالت کے حکم کے بعد گولی کا خول ملنا شامل ہے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ خاندان کسی متبادل میڈیکل بورڈ کو قبول نہیں کرے گا اور دوبارہ پوسٹ مارٹم پہلے سے تشکیل دی گئی آٹھ رکنی ٹیم ہی سے کرانے کا مطالبہ جاری رکھے گا۔
قبرستان میں اس معاملے پر صورتحال کشیدہ رہی جہاں پولیس نے پہلے ہی سکیورٹی انتظامات کر رکھے تھے۔ میر رضا کے اہلخانہ اور ان کے حامی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جبکہ پولیس سرجن ڈاکٹر ثمینہ سید بھی موقع پر پہنچیں۔ اس دوران مجسٹریٹ، پولیس حکام اور اہلخانہ کے درمیان بات چیت جاری رہی۔
قبر کشائی کا معاملہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اٹھنے والے سوالات کے بعد مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر ثمینہ سید نے ابتدائی رپورٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔
پولیس سرجن کے مطابق لاش کا ایکسرے نہیں کیا گیا، فائرنگ سے متعلق فرانزک جانچ کے لیے ہاتھوں کے نمونے حاصل نہیں کیے گئے اور گولی کے مبینہ داخلی زخم کے اطراف موجود نشانات کا کیمیائی معائنہ بھی نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں کھوپڑی اور گردن کے اندرونی معائنے، فائر آرم انجریز کی سائنسی پیمائش اور تصاویر، گولی کے راستے اور دیگر طبی شواہد کی تفصیلات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔
لاش کی حالت اور شناخت سے متعلق بھی مزید جانچ کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی، جبکہ ڈی این اے نمونہ حاصل نہ کیے جانے پر بھی سوالات سامنے آئے۔
پولیس تاحال میر رضا علی کی موت کو حتمی طور پر قتل یا خودکشی قرار نہیں دے سکی۔ اہلخانہ کی جانب سے نئے میڈیکل بورڈ پر اعتراض کے بعد قبر کشائی کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا ہے اور اب مزید کارروائی عدالت کی جانب سے اعتراضات پر غور کے بعد طے کی جائے گی۔
