لاہور، 8 اگست 2026: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ہفتے کے روز جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور پیٹرولیم لیوی اور بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کے تناظر میں ملک کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دینے کی پیشکش کی۔
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب جماعت اسلامی نے مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا۔ مختلف شہروں میں مظاہروں، دھرنوں اور ریلیوں کے باعث اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران احسن اقبال نے لیاقت بلوچ کو ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال سے آگاہ کرنے کی پیشکش کی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
تاہم لیاقت بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے نام پر عوام سے مبینہ منافع خوری اور اضافی وصولیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم کامیاب ہوگی اور عوام کو ریلیف فراہم کرے گی۔
اس سے قبل جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے، پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
جماعت اسلامی کے شعبہ خواتین کی جانب سے منعقدہ ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا تھا کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرانے سے مبینہ طور پر بڑے سیاسی رہنماؤں کے ملوث ہونے کا پتا چل سکتا ہے۔
انہوں نے آئی پی پیز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بجلی کے اخراجات کے نام پر عوام سے اربوں روپے وصول کیے گئے۔ حافظ نعیم نے تقریباً تین کروڑ موٹر سائیکل سواروں پر عائد بھاری ٹیکسوں کی جانب بھی توجہ دلائی اور پیٹرولیم لیوی کو عوام پر اضافی مالی بوجھ قرار دیا۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پیٹرولیم لیوی، ایندھن کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے معاملے پر سیاسی بحث میں شدت آ رہی ہے، جبکہ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف دینے کے مطالبات کے ساتھ اپنی احتجاجی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔
