میامی — جنوبی فلوریڈا کا مشہور تفریحی مقام ’مونکی جنگل‘ اب خاموش ہو چکا ہے۔ 61 برس تک سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہنے والا یہ پارک، جہاں انسانوں کو جال دار راستوں میں رکھا جاتا تھا اور بندر کھلے جنگل میں گھومتے تھے، اب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
سن 1933 میں جوزف ڈومنڈ کی جانب سے قائم کیا گیا یہ پارک کسی روایتی چڑیا گھر جیسا نہیں تھا۔ 30 ایکڑ پر محیط یہ ذیلی ٹراپیکل جنگل ایک منفرد تجربہ گاہ تھا، جہاں بندروں کو ان کی قدرتی حدود میں آزادی دی گئی تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ماڈل اپنی افادیت کھونے لگا۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پارک کو جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا۔ امریکی محکمہ زراعت نے پارک انتظامیہ کو جانوروں کی طبی دیکھ بھال میں غفلت اور پنجروں کی خستہ حالی پر متعدد بار نوٹس جاری کیے۔ ان قانونی لڑائیوں نے نہ صرف پارک کے مالی وسائل نچوڑ لیے بلکہ اس کی ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کیا۔
پارک کا زوال اچانک نہیں آیا۔ یہ برسوں پرانی تنصیبات اور جانوروں کو قید میں رکھنے کے حوالے سے بدلتی ہوئی عوامی سوچ کا نتیجہ ہے۔ ایک دور تھا جب اسے "ایسا جنگل جہاں انسان پنجروں میں ہوتے ہیں” کے طور پر مارکیٹ کیا جاتا تھا، لیکن جدید سیاح اب جنگلی جانوروں کو اس طرح کی مصنوعی ماحول میں دیکھ کر خوش نہیں ہوتے۔
مالی بوجھ اور دیکھ بھال کے اخراجات ناقابل برداشت ہونے کے بعد انتظامیہ نے پارک بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔ اب سب سے بڑا چیلنج یہاں موجود بندروں کی بقیہ آبادی—جن میں جاوا مکاک، مکڑی بندر اور کیپوچن شامل ہیں—کو نئی پناہ گاہوں میں منتقل کرنا ہے۔ ان میں سے کئی بندر اپنی پوری زندگی اسی جنگل میں گزار چکے ہیں۔
پارک کے ایک سابق ملازم، جنہوں نے یہاں ایک دہائی تک کام کیا، بتاتے ہیں کہ "یہاں جو جادو 90 کی دہائی میں تھا، وہ وقت کے ساتھ ختم ہو گیا۔ آخر میں یہ سب کچھ صرف پارک چلانے تک محدود ہو کر رہ گیا تھا، جانوروں کی بہتری اب ترجیح نہیں رہی تھی۔”
فی الحال، اس وسیع و عریض رقبے پر پراپرٹی ڈویلپرز کی نظریں ہیں۔ پارک کے بند ہونے کے ساتھ ہی ایک ایسا دور بھی ختم ہو گیا ہے جس میں سڑک کنارے بنے جانوروں کے تفریحی مقامات کا رواج تھا۔ اب دنیا کا رخ جدید اور مستند تحفظاتی مراکز کی طرف ہے، جہاں جانوروں کو نمائش کی چیز نہیں بلکہ جاندار سمجھا جاتا ہے۔
بندروں کو تو محفوظ ٹھکانوں پر منتقل کر دیا گیا ہے، لیکن جنگل میں باقی رہ جانے والے زنگ آلود پنجرے ایک ایسے دور کی یادگار ہیں، جس کی گنجائش اب جدید دنیا میں نہیں رہی۔
