اگر نومبر کے انتخابات میں ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں، تو وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جارحانہ تحقیقات کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پارٹی کے سینئر معاونین کے مطابق، اس بار حکمت عملی کا مرکز مواخذے کے بجائے ٹرمپ کے کاروباری معاملات اور مفادات کے ٹکراؤ کی جانچ پڑتال ہوگا۔
ماضی میں ہونے والی مواخذے کی کارروائیوں کے برعکس، اس بار ڈیموکریٹس کا ارادہ ایگزیکٹو برانچ کے معاملات اور مالیاتی ریکارڈز پر توجہ مرکوز رکھنا ہے۔ پارٹی کے اندر یہ سوچ پائی جا رہی ہے کہ ووٹرز مواخذے کی پیچیدہ آئینی جنگ کے بجائے ٹرمپ کے ذاتی اور سیاسی طرزِ عمل پر احتساب کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد سیاسی ہلچل سے بچتے ہوئے کانگریس کے اگلے سیشن کے دوران ٹرمپ پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔
ایک اسٹریٹجسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "مقصد ایسی لڑائی نہیں جو صرف سرخیوں میں رہے اور پارٹی لائن پر ووٹنگ تک محدود ہو جائے۔ اصل ہدف عوام کے سامنے حقائق اور ریکارڈ رکھنا ہے۔”
اگر ڈیموکریٹس ایوان کی صدارت حاصل کر لیتے ہیں، تو جوڈیشری اور اوور سائٹ کمیٹیاں اس تحقیقاتی مشن کا بنیادی مرکز ہوں گی۔ پارٹی ٹرمپ کے غیر ملکی کاروباری معاہدوں اور کلاسیفائیڈ دستاویزات کی ہینڈلنگ سے جڑے ان سوالات کو دوبارہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے جو ابھی تک حل طلب ہیں۔
دوسری جانب، ریپبلکن پارٹی نے ان منصوبوں کو "انتقامی ایجنڈا” قرار دے دیا ہے۔ ریپبلکن قیادت کا موقف ہے کہ ایسی تحقیقات کا مقصد صرف مہنگائی اور بارڈر سیکیورٹی جیسے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹرز اس قسم کی سیاست کو مسترد کر دیں گے جسے وہ "حکومت کے ہتھیار کے طور پر استعمال” قرار دیتے ہیں۔
ڈیموکریٹس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی بنیاد کو مطمئن رکھنا اور اعتدال پسند ووٹرز کو ناراض نہ کرنا ہے۔ اندرونی پولنگ بتاتی ہے کہ پارٹی کا ووٹر بیس احتساب چاہتا ہے، لیکن غیر جانبدار ووٹرز مسلسل جاری رہنے والی کانگریسی جنگ سے بیزار ہیں۔
فی الحال یہ منصوبے ابتدائی مسودے کی شکل میں ہیں۔ یہ تحقیقات عملی اقدامات میں بدلیں گی یا محض سیاسی تھیٹر بن کر رہ جائیں گی، اس کا انحصار نومبر کے انتخابی نتائج پر ہے۔ اگر ڈیموکریٹس کو معمولی اکثریت ملتی ہے تو کارروائی انتہائی محتاط ہوگی، جبکہ بڑی کامیابی کی صورت میں یہ تحقیقات وسیع تر دائرہ اختیار کر سکتی ہیں۔
نومبر کے نتائج ہی طے کریں گے کہ یہ فائلیں الماریوں میں بند رہیں گی یا اگلی کانگریس کا اہم ترین ایجنڈا بنیں گی۔
