ڈبلن، 12 ستمبر 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی اہم ایسٹ-ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے پیچھے غالباً ایران کا ہاتھ ہے۔ حملے کے بعد سعودی عرب نے اس اہم پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کردیا، جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز ڈبلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ملوث ہونے کے سوال پر کہا کہ ان کے خیال میں غالباً ایران ہی ذمہ دار ہے۔ تاہم، یہ بات واضح رہے کہ یہ ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا الزام ہے اور ایرانی ذمہ داری ابھی آزادانہ طور پر حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی۔
سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے
سعودی عرب کے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ہونے والے متعدد حملوں کے بعد ایسٹ-ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کردیا گیا۔
حملوں میں بعض افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سعودی حکام نے نقصانات کا جائزہ لینے اور مزید خطرے سے بچنے کے لیے پائپ لائن کی سرگرمیاں روک دیں۔
تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقوں سے خام تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔
یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے ملک آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل برآمد کرسکتا ہے۔
حملے کا تعلق عراق سے بتایا گیا
اس حملے نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔
عراق نے تصدیق کی ہے کہ حملے اس کی سرزمین سے شروع ہوئے تھے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ بغداد نے ایک اعلیٰ سیکیورٹی اہلکار کو بھی عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ اطلاعات میں حملے کا تعلق عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں سے جوڑا گیا ہے، تاہم ان گروہوں نے حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
سعودی عرب اور امریکا نے ایران سے وابستہ فورسز کو ذمہ دار قرار دیا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ غالباً ایران اس حملے کے پیچھے ہے۔ اگر ایران پر براہ راست ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو اس سے خطے میں مزید فوجی کشیدگی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ٹرمپ کی سعودی ولی عہد سے گفتگو
ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی بات کی ہے اور انہیں اپنا “اچھا دوست” قرار دیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب کو اپنی تیل کی تنصیبات اور سمندری تجارتی راستوں دونوں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ یمن کی ایران نواز حوثی تحریک نے ان کی انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ امریکا کو براہ راست جنگ میں شامل نہیں کرنا چاہتی۔
عالمی تیل کی سپلائی کو خطرہ
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ کے کئی اہم توانائی اور تجارتی راستے پہلے ہی شدید دباؤ میں ہیں۔
آبنائے ہرمز میں جاری تنازع کے باعث تیل کی عالمی نقل و حمل متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب یمن میں حوثی فورسز نے باب المندب آبنائے کے اطراف بھی دباؤ بڑھا دیا ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم تجارتی راستہ ہے۔
سمندری راستوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی متبادل زمینی تیل برآمدی پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے سے عالمی تیل کی سپلائی کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
علاقائی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھی ہیں اور برینٹ خام تیل کی قیمت حالیہ دنوں میں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران، امریکا، سعودی عرب اور ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی پہلے ہی خطرناک سطح پر ہے۔
اب یہ خدشہ موجود ہے کہ پائپ لائن پر حملہ مزید فوجی کارروائیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب یا ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست کشیدگی بڑھنے کی صورت میں مزید تیل تنصیبات اور تجارتی راستے متاثر ہوسکتے ہیں۔
فی الحال سعودی عرب نے اپنی توانائی کی تنصیبات کے تحفظ اور حملے کی تحقیقات پر توجہ مرکوز کی ہے، جبکہ امریکا بھی ایسے ردعمل پر غور کررہا ہے جس سے خطے میں ایک بڑی جنگ شروع ہونے کا خطرہ کم رہے۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ کس قدر حساس ہوچکا ہے، اور ایک اہم پائپ لائن پر حملہ کس طرح تیزی سے عالمی توانائی اور سیکیورٹی کے مسئلے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
