ٹرمپ انتظامیہ نے خاموشی سے ’آرکٹک رپورٹ کارڈ‘ جاری کرنے کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ یہ سائنسی رپورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے قطبی خطے میں ماحولیاتی تبدیلیوں، برف کے پگھلنے اور درجہ حرارت میں اضافے کا مستند ریکارڈ فراہم کر رہی تھی۔ اس فیصلے سے محققین اور پالیسی سازوں کے ہاتھ سے وہ مرکزی ڈیٹا نکل گیا ہے جو قطبی خطے کی بدلتی صورتحال کو سمجھنے کے لیے ناگزیر تھا۔
یہ رپورٹ ہر سال دسمبر میں ’امریکن جیو فزیکل یونین‘ کے اجلاس کے موقع پر جاری کی جاتی تھی۔ اس میں سمندری برف کی حد، ہوا کے درجہ حرارت اور پرما فروسٹ (جمی ہوئی زمین) کے پگھلاؤ کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا جاتا تھا۔ وفاقی سائنسدانوں کے مطابق یہ دستاویز عالمی موسم اور سطح سمندر میں اضافے کے رجحانات کو سمجھنے کا بنیادی ذریعہ تھی۔
ایک وفاقی موسمیاتی سائنسدان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم نے زمین کے سب سے تیزی سے گرم ہونے والے خطے کا اہم ترین ڈیش بورڈ کھو دیا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں تھے، بلکہ پالیسی سازوں کے لیے ایک ایسا ٹول تھا جو دکھاتا تھا کہ ہمارے پیروں تلے سے زمین کتنی تیزی سے سرک رہی ہے۔”
یہ اقدام نئی انتظامیہ کی جانب سے ماحولیاتی پروگراموں کے جائزے کا حصہ ہے، جس کا مقصد حکومتی سطح پر "غیر ضروری رپورٹنگ” کو کم کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ خام ڈیٹا اب بھی متعلقہ ایجنسیوں کی ویب سائٹس پر دستیاب رہے گا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مربوط تجزیے کو ختم کرنے کا مقصد عوامی سطح پر ماحولیاتی بحران کی سنگینی کو چھپانا ہے۔
گزشتہ 20 برسوں سے یہ رپورٹ ایک ابتدائی انتباہی نظام کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اس رپورٹ نے ٹنڈرا کے سبزہ زاروں میں تبدیلی اور برف کی تہوں کے پتلے ہونے جیسے ان اشاروں کو نمایاں کیا، جن کا براہِ راست تعلق دنیا بھر میں شدید موسمیاتی واقعات سے جڑا ہوا ہے۔ اس رپورٹ کو ختم کر کے انتظامیہ نے ایک ایسی پیئر ریویوڈ دستاویز کو ہٹا دیا ہے جو اکثر سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھی۔
اس فیصلے کے سائنسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی تحقیقی ادارے، جو اپنی ماحولیاتی ماڈلنگ کے لیے اس رپورٹ پر انحصار کرتے تھے، اب اس خلا کو پر کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔
اس سالانہ تجزیے کے بغیر، ڈیٹا اب مختلف وفاقی سرورز پر بکھر کر رہ جائے گا۔ عوام اور قانون سازوں کے لیے، آرکٹک کے گرم ہونے کی واضح اور مربوط کہانی اب ایک غیر منظم اعداد و شمار کے ڈھیر میں گم ہو گئی ہے۔
