لیسٹر — جہاں ہزاروں لوگ سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے مہنگے سیاحتی مقامات اور اونچے پہاڑوں کا رخ کر رہے تھے، وہیں 54 سالہ پیٹر ہینڈرسن نے اپنے گھر کے پچھواڑے سے ہی یہ منظر اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔
پیشے کے اعتبار سے بلڈر، پیٹر ہینڈرسن نے گزشتہ تین برسوں کے دوران اپنے گھر کے باغیچے میں ایک نجی رصد گاہ تعمیر کی۔ اس رصد گاہ میں ایک کھلنے والی چھت اور جدید سولر ٹیلی سکوپ نصب ہے، جس کی بدولت انہیں گرہن کے دوران ہجوم سے دور، سکون سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
"یہ صرف آلات کی بات نہیں ہے،” ہینڈرسن نے اپنے مانیٹر پر فوکس سیٹ کرتے ہوئے کہا۔ "اصل چیز یہ ہے کہ آپ اس وقت تیار ہوں جب آسمان اپنا نظارہ دکھانے کا فیصلہ کرے۔”
ان کی کھینچی گئی تصاویر اتنی واضح ہیں کہ سورج کی بیرونی سطح کی باریکیاں بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے ایک خاص ہائیڈروجن-الفا فلٹر کا استعمال کیا، جس سے گرہن کے عروج کے دوران سورج سے اٹھنے والے پلازما کے شعلے یعنی ‘سولر پرومیننسز’ کو بھی دستاویزی شکل دی گئی۔
ہینڈرسن کے لیے یہ رصد گاہ محض ایک شوق کا نتیجہ نہیں، بلکہ برسوں کی محنت ہے۔ انہوں نے اسے اپنے تعمیراتی کاموں میں بچ جانے والی لکڑی سے تیار کیا اور ٹیلی سکوپ کے پرزے سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ سے خرید کر جوڑے۔ اس پر آنے والی لاگت پیشہ ورانہ لیبز کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن ان کی تصاویر کی شفافیت نے مقامی ماہرینِ فلکیات کو بھی حیران کر دیا ہے۔
یہ منصوبہ اس وقت شروع ہوا جب ہینڈرسن تعمیراتی سائٹ پر طویل گھنٹوں کی تھکن مٹانے کے لیے رات کو ستارے دیکھا کرتے تھے۔ انہوں نے گھر کے نقشوں کے پیچھے ستاروں کے چارٹ بنانا شروع کیے، جو بالآخر ایک مکمل رصد گاہ میں ڈھل گئے۔
ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ ہینڈرسن جیسے شوقین افراد کی نجی رصد گاہیں اب اہم ثابت ہو رہی ہیں۔ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی روشنی کی آلودگی کے درمیان، ایسی مخصوص جگہیں فلکیاتی ڈیٹا اکٹھا کرنے کا ایک نیا ذریعہ بن رہی ہیں جو کبھی کبھی بڑے مراکز کی نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔
ہینڈرسن کو شہرت یا تعلیمی اعزاز کی پرواہ نہیں۔ وہ اب اپنے اگلے منصوبے پر کام کر رہے ہیں: ایک ایسا کیمرہ سسٹم جو خلا میں موجود نیبولا کی حرکت کو ٹریک کر سکے۔
"سورج گرہن تو بس ایک آزمائش تھی،” انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "اصل کام تو تب شروع ہوتا ہے جب آسمان مکمل تاریک ہو جاتا ہے۔”
