فوری رابطے اور تیز ترین پیغام رسانی کے دور میں ایک نئی موبائل ایپلی کیشن ’’پیجن‘‘ نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ یہ ایپ واٹس ایپ یا ٹیلی گرام کی طرح سیکنڈوں میں پیغام پہنچانے کے بجائے، اسے منزل تک پہنچنے میں جان بوجھ کر تاخیر کرتی ہے۔
ایپ کا طریقہ کار سادہ مگر منفرد ہے۔ پیغام بھیجنے والے اور وصول کرنے والے کے درمیان فاصلے کے حساب سے ایپ ایک مصنوعی وقت کا تعین کرتی ہے۔ اگر پیغام گلی کے دوسرے کونے پر بھیجا جائے تو وہ منٹوں میں پہنچے گا، لیکن اگر پیغام براعظم پار کرنا ہو تو اسے پہنچنے میں گھنٹے یا کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔
ایپ بنانے والوں کا موقف ہے کہ جدید مواصلات اب ایک بوجھ بن چکی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں مصنوعی رکاوٹ پیدا کر کے وہ پرانے دور کے خط و کتابت والے سکون کو واپس لا رہے ہیں۔ یہ ایپ ہنگامی رابطوں کے لیے نہیں، بلکہ صبر اور تحمل کا ایک ڈیجیٹل تجربہ ہے۔
لیڈ ڈویلپر سارہ جینکنز کہتی ہیں، "ہم نے مواصلات کو ایک فیکٹری لائن کی طرح بنا دیا ہے۔ لوگ سیکنڈوں میں جواب دینے کے دباؤ میں رہتے ہیں۔ یہ ایپ اس چکر کو توڑتی ہے۔ آپ فوراً جواب نہیں دے سکتے کیونکہ ابھی آپ کا ’کبوتر‘ منزل تک نہیں پہنچا۔”
ایپ کا انٹرفیس اس تجربے کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔ جب پیغام راستے میں ہوتا ہے، تو بھیجنے والے کو سکرین پر پرندے کے اڑنے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ پیغام پہنچنے پر وصول کنندہ کو نوٹیفکیشن تو ملتا ہے، مگر یہاں وہ "سین” یا "ٹائپنگ” کے اشارے نہیں ہیں جو عام ایپس پر پریشانی اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔
مارکیٹ تجزیہ کار اس نئی پیش رفت کو ایک عارضی رجحان قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ ’ڈیجیٹل منیمالزم‘ (کم سے کم ڈیجیٹل استعمال) کے شوقین نوجوانوں میں اس ایپ کی مانگ بڑھی ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ عملی زندگی میں یہ ایپ کارآمد نہیں ہے۔
ٹیک کنسلٹنٹ مارکس تھورن کے مطابق، "یہ ایک دلچسپ کھلونا تو ہو سکتا ہے، لیکن جب آپ کو کسی اہم ملاقات یا کام کے لیے رابطہ کرنا ہو تو یہ ’کبوتر‘ ایک رکاوٹ بن جاتا ہے۔ یہ روزمرہ کے استعمال کے لیے نہیں ہے۔”
ان تنقیدوں کے باوجود، ایپ کے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ اب اسے مختصر اور تیز پیغامات کے بجائے طویل اور سوچ سمجھ کر لکھی گئی گفتگو کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
فی الحال یہ ایپ ایپ سٹور کے ایک چھوٹے سے حصے تک محدود ہے۔ آیا یہ ڈیجیٹل گفتگو کے انداز کو بدل پائے گی یا صرف ایک وقتی تفریح ثابت ہوگی، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اس کے صارفین کے لیے سست روی ہی دراصل سکون کا راستہ ہے۔
