بیلجیئم کے قصبے لیر میں تعمیراتی کام کے دوران مزدوروں کو ایک ایسی چیز ملی جس نے مقامی انتظامیہ اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایک بند پڑی بریوری کی بنیادوں کی کھدائی کے دوران ایک بھاری دھاتی صندوق برآمد ہوا، جس میں موجود سونے کی اینٹوں اور سکوں کی مالیت تقریباً ایک کروڑ ڈالر (تقریباً 9 ملین یورو) بتائی گئی ہے۔
یہ واقعہ منگل کی صبح پیش آیا جب مزدور ایک پرانی فیکٹری کو رہائشی کمپلیکس میں تبدیل کرنے کے لیے زمین ہموار کر رہے تھے۔ تین میٹر گہرائی میں دبے ہوئے اس صندوق کو دیکھ کر پہلے تو مزدوروں نے اسے پرانا سکریپ سمجھا، لیکن اس کا وزن غیر معمولی تھا۔
سائٹ کے فورمین، مارک وان ڈین برگ نے بتایا، "صندوق ویلڈنگ کے ذریعے بند کیا گیا تھا۔ جب ہم نے اسے کھولا تو اندر موجود چمکتے ہوئے سونے نے ہمیں سکتے میں ڈال دیا۔ یہ ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر تھا۔”
مقامی پولیس نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ یہ سونا دوسری جنگِ عظیم کے دوران بیلجیئم پر جرمن قبضے کے دنوں میں چھپایا گیا ہوگا۔ اس دور میں بہت سے مقامی افراد اور کاروباری اداروں نے اپنی دولت کو قبضے سے بچانے کے لیے زمین میں دفن کر دیا تھا، اور غالب امکان ہے کہ اس خزانے کا مالک کبھی واپس نہیں آ سکا۔
اس دریافت نے قانونی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دی ہیں۔ بیلجیئم کے قانون کے مطابق، نجی املاک پر ملنے والی اشیاء کی ملکیت کا فیصلہ زمین کے مالک اور دریافت کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے، تاہم اگر یہ خزانہ تاریخی اہمیت کا حامل قرار پایا تو حکومت اس کا بڑا حصہ اپنے قبضے میں لے سکتی ہے۔
فی الحال، رائل میوزیم آف آرٹ اینڈ ہسٹری کے ماہرین اس سونے کے سکوں کے نشانات کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ ان کی اصل تاریخ اور منبع کا تعین کیا جا سکے۔ اس دوران، ڈویلپر نے قانونی مشیروں سے رابطہ کر لیا ہے تاکہ ٹیکس اور وراثت کے معاملات کو سلجھایا جا سکے۔
لیر کے رہائشیوں کے لیے یہ پرانی بریوری، جو کبھی صنعتی زوال کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب ایک قومی معمہ بن چکی ہے۔ میئر فرینک بوگارٹس نے کہا، "پورے شہر میں صرف اسی موضوع پر بات ہو رہی ہے۔ لوگ یہ جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ یہ سونا کس نے چھپایا تھا اور وہ اسے لینے واپس کیوں نہیں آ سکا؟”
ابھی یہ واضح نہیں کہ اس خزانے کا حتمی وارث کون ہوگا، لیکن اس دریافت نے اس گمنام بریوری کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا ہے۔
