لاس اینجلس: ریکارڈنگ اکیڈمی نے نئی متعارف کرائی گئی بہترین ایشین پاپ میوزک پرفارمنس کیٹیگری میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور شروع کردیا ہے، یہ پیش رفت جنوبی کورین میوزک گروپ بی ٹی ایس کی جانب سے رواں سال گریمی ایوارڈز کے لیے اپنا کام جمع نہ کرانے کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔
ریکارڈنگ اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو ہاروی میسن جونیئر اور دیگر گریمی حکام نے ایشیائی موسیقی سے وابستہ مختلف حلقوں کے نمائندوں سے بات چیت کی ہے، جن میں کے پاپ، جے پاپ، سی پاپ اور بھارتی موسیقی کی کمیونٹیز شامل ہیں۔
ہاروی میسن جونیئر کے مطابق اکیڈمی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ موسیقی سے وابستہ کسی بھی فنکار یا کمیونٹی کی آواز نظر انداز نہ ہو اور مختلف شعبوں کے فنکار خود کو گریمی ایوارڈز میں بہتر طور پر نمائندگی حاصل کرتے ہوئے محسوس کریں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مختلف متعلقہ حلقوں سے ہونے والی گفتگو سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض فنکاروں کو محسوس ہوتا ہے کہ نئی کیٹیگری اس موسیقی کی مکمل عکاسی نہیں کرتی جس پر وہ کام کر رہے ہیں۔
بی ٹی ایس نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ گروپ رواں سال گریمی ایوارڈز کے لیے جمع کرانے کے عمل میں حصہ نہیں لے گا۔ گروپ کے ارکان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ موسیقی کو خطے یا زبان کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے اس کی اصل حیثیت اور فن کی بنیاد پر سنا اور پسند کیا جائے۔
بہترین ایشین پاپ میوزک پرفارمنس کی نئی کیٹیگری کا اعلان جون میں کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد اہلیت کے اصولوں، بالخصوص زبان سے متعلق شرائط، پر تنقید سامنے آئی۔
کچھ ناقدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایشین پاپ کے لیے الگ کیٹیگری بنانے سے ایشیائی فنکاروں کے لیے گریمی کی عمومی کیٹیگریز میں مقابلے کے مواقع کم تو نہیں ہوجائیں گے۔
اس سے قبل ہاروی میسن جونیئر نے بی ٹی ایس کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بطور موسیقار گروپ کے مؤقف کو سمجھتے اور اس کا احترام کرتے ہیں۔
ریکارڈنگ اکیڈمی کا یہ جائزہ گریمی ایوارڈز کے لیے نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ سے کچھ ہی عرصہ قبل جاری ہے، جبکہ ابتدائی ووٹنگ کا مرحلہ 12 اکتوبر سے شروع ہونے والا ہے۔
