پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے نکالے جانے والے احتجاجی مارچ کی خود قیادت کریں گے۔ ان کا یہ بیان پارٹی کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب پارٹی نے کمرہِ عدالت اور مذاکرات سے نکل کر عملی میدان میں دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران سہیل آفریدی کا لہجہ دو ٹوک تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب مزید انتظار کی گنجائش نہیں اور پارٹی اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر نکلنے کو تیار ہے۔
آفریدی نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "میں کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ میں خود اس مارچ کی قیادت کروں گا اور ہم اپنے مطالبات کی منظوری تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
یہ اعلان حکومتی اتحاد کے لیے ایک نئی آزمائش ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے حکومت پی ٹی آئی کی سرگرمیوں کو قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کے ذریعے محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نو مئی کے واقعات کے بعد سے پارٹی پر شدید دباؤ ہے، اور سہیل آفریدی کی جانب سے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ اس جمود کو توڑنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اس فیصلے کو ایک بڑا جوکھم قرار دے رہے ہیں۔ حکومت پہلے ہی ایسے احتجاج کو ریاست کے استحکام کے خلاف قرار دے چکی ہے اور ماضی میں پولیس کا ردعمل کافی سخت رہا ہے۔ تاہم آفریدی کا موقف ہے کہ اب خاموش رہنے کا نقصان سڑکوں پر نکلنے سے کہیں زیادہ ہے۔
مارچ کی حتمی تاریخ اور راستے کے بارے میں تاحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا، جسے ایک حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ انتظامیہ کو تیاری کا موقع نہ مل سکے۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک طویل اور فیصلہ کن احتجاج ہوگا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ اقدام حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوگا یا پھر ایک نیا سیاسی تصادم جنم لے گا۔ فی الحال سہیل آفریدی نے گیند حکومتی کورٹ میں پھینک دی ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
