بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کپتان نجم الحسین شانتو نے آسٹریلیا کے خلاف حالیہ تاریخی فتح کا کریڈٹ ٹیم کی نئی حکمت عملی، یعنی فاسٹ بولنگ پر انحصار کو دیا ہے۔ شانتو کے مطابق، یہ جیت محض اتفاق نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری اس محنت کا نتیجہ ہے جس میں بنگلہ دیش نے روایتی سپن وکٹوں کی بجائے پیس اٹیک کو ترجیح دینا شروع کی۔
کئی دہائیوں تک بنگلہ دیشی کرکٹ کا انحصار مقامی پچوں پر ملنے والی ٹرن اور سپنرز کی کارکردگی پر رہا۔ تاہم، شانتو نے واضح کیا کہ اب ٹیم کی شناخت بدل رہی ہے۔ "ہم اب صرف سپن وکٹوں کے محتاج نہیں،” شانتو نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا۔ "ہمارے بولرز نے وہ لینتھ حاصل کی ہے جس پر ہم نے طویل منصوبہ بندی کی تھی، اور اب مخالف ٹیموں کو ہمارے خلاف اپنی حکمت عملی بدلنا پڑے گی۔”
اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ بولنگ میں تنوع ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں بنگلہ دیشی پیسرز نے نہ صرف درست لائن اور لینتھ پر بولنگ کی بلکہ آسٹریلوی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ ماضی میں بنگلہ دیشی ٹیم اکثر اس وقت مشکلات کا شکار ہوتی تھی جب پچ سے سپنرز کو مدد نہ ملتی، لیکن موجودہ پیس بیٹری نے اس کمزوری کو کافی حد تک ختم کر دیا ہے۔
ٹیم کے کوچنگ اسٹاف نے گزشتہ ایک سال کے دوران بولرز کی سوئنگ اور سیم پر خصوصی توجہ دی ہے۔ شانتو کا ماننا ہے کہ یہ محنت اب رنگ لا رہی ہے اور ٹیم اب صرف بقا کی جنگ نہیں لڑ رہی بلکہ میچ کو خود کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ "ہم اب مخالف ٹیم کو کھیلنے کا موقع دینے کے بجائے خود شرائط طے کر رہے ہیں،” شانتو نے اعتماد کا اظہار کیا۔
تجزیہ کاروں کا البتہ یہ ماننا ہے کہ اصل امتحان اس حکمت عملی کا تسلسل برقرار رکھنا ہوگا۔ ماضی میں بھی بنگلہ دیشی ٹیم نے ایسے لمحات دکھائے ہیں مگر مستقل مزاجی کا فقدان رہا ہے۔ شانتو کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ آیا یہ پیس ہیوی ماڈل بیرونِ ملک کی فلیٹ پچوں پر بھی کارگر ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔
آسٹریلیا کے خلاف یہ فتح بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اگر شانتو کا یہ پلان کامیاب رہتا ہے، تو بنگلہ دیش عالمی کرکٹ میں ایک ایسی ٹیم کے طور پر ابھرے گی جس سے نمٹنا اب صرف سپنرز کا سامنا کرنے تک محدود نہیں رہے گا۔
