آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے اسمبلی کی آٹھ مخصوص نشستوں پر انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ ان نشستوں پر پولنگ یکم دسمبر کو ہوگی، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی تعطل کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
یہ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور علماء کے لیے مختص ہیں جو گزشتہ کچھ عرصے سے خالی پڑی تھیں۔ نشستوں کی خالی حیثیت کے باعث قانون سازی کا عمل بری طرح متاثر رہا اور حکومتی و اپوزیشن بنچوں کے درمیان اس تاخیر پر مسلسل لفظی جنگ جاری تھی۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 20 نومبر تک جمع کروا سکیں گے۔ اگلے ہی روز کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہوگا، جس کے بعد حتمی امیدواروں کی فہرست جاری کر دی جائے گی۔
حکمران جماعت کے لیے ان نشستوں کا حصول ایوان میں اپنی عددی اکثریت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن اس انتخابی عمل کو حکومتی قانون سازی کے ایجنڈے کو چیلنج کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "انتخابی عمل کو شفاف اور آئینی تقاضوں کے مطابق مکمل کرنا ہماری ترجیح ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پولنگ کے دن سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے۔
یہ انتخابات اسمبلی میں موجود جماعتوں کی عددی طاقت کے تناسب سے ہوں گے۔ شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے اندر امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دینے کے لیے جوڑ توڑ شروع ہو چکی ہے۔
ان انتخابات کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی اپنی مکمل تعداد کے ساتھ فعال ہو جائے گی، جس سے قانون سازی میں حائل رکاوٹیں دور ہونے کی توقع ہے۔ تاہم، دیکھنا یہ ہے کہ یہ انتخابی عمل ایوان میں سیاسی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے یا نئے تنازعات کو جنم دیتا ہے۔
