صوبائی تعلیمی بورڈز نے منگل کے روز ایچ ایس سی پارٹ ٹو پری انجینئرنگ کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ نتائج کے مطابق تعلیمی کارکردگی کا معیار ملا جلا رہا۔
طلباء صبح دس بجے سے بورڈز کی ویب سائٹس اور ایس ایم ایس سروسز کے ذریعے اپنے نمبرز چیک کر سکتے ہیں۔ جہاں چند ممتاز کالجوں نے حسبِ روایت نمایاں پوزیشنیں برقرار رکھیں، وہیں ریاضی اور فزکس جیسے بنیادی مضامین میں بہت سے اداروں کے نتائج میں گزشتہ برسوں کی نسبت کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
تعلیمی حکام کے مطابق، گریڈز میں یہ اتار چڑھاؤ رواں سال متعارف کروائے گئے نظرثانی شدہ امتحانی ڈھانچے کا نتیجہ ہے۔ نئے ماڈل میں رٹا لگانے کے بجائے تصوراتی سمجھ بوجھ پر زیادہ زور دیا گیا تھا، جس سے بہت سے طلباء کو آخری امتحانی دور میں مطابقت پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
صوبائی کنٹرولر امتحانات نے ایک مختصر پریس بریفنگ میں کہا کہ "نصاب میں ساختی تبدیلیوں کے پیشِ نظر نتائج میں اس تبدیلی کی توقع تھی۔ یہ نتائج ایک ایسے عبوری دور کی عکاسی کرتے ہیں جس سے اس وقت پورا تعلیمی نظام گزر رہا ہے۔”
ہزاروں طلباء کے لیے یہ نتائج سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے اہلیت کا تعین کریں گے۔ داخلوں کا سیزن قریب آتے ہی اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے امیدواروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، کیونکہ وہ ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں اپنی نشستیں یقینی بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔
جو طلباء اپنے نتائج سے مطمئن نہیں، انہیں پیپرز کی ری چیکنگ کے لیے درخواست دینے کی سہولت دی گئی ہے۔ بورڈز نے تصدیق کی ہے کہ شکایات درج کروانے کا عمل اگلے دس روز تک جاری رہے گا، جس کے بعد ضمنی امتحانات کا شیڈول حتمی شکل اختیار کرے گا۔
اس سال کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ مجموعی پاسنگ تناسب گزشتہ سال کے قریب ہی ہے، تاہم ‘اے ون’ گریڈ حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی اب طلباء کی توجہ انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے انٹری ٹیسٹ پر مرکوز ہو گئی ہے، جو اسی ماہ کے آخر میں شروع ہونے والے ہیں۔
