ہوائی کے ساحلی علاقوں میں منگل کی رات ٹروپیکل طوفان ’لالہ‘ نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں چھ گھنٹوں کے اندر 15 انچ سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔ اوآہو اور ماؤئی میں تقریباً 80 ہزار افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہو چکے ہیں۔
طوفان کی شدت کا اندازہ ابتدائی پیش گوئیوں سے کہیں زیادہ تھا۔ 65 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے بجلی کے کھمبے اکھاڑ دیے اور کئی دہائیوں پرانے درخت سڑکوں پر آ گرے۔ ہیلو کے نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو متاثرین تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کائلوا کے رہائشی علاقوں میں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں جہاں لوگ کشتیوں کے ذریعے نقل و حرکت کرنے پر مجبور ہیں۔ شمالی اضلاع کو ملانے والی مرکزی شاہراہ مٹی کے تودے گرنے سے بند کر دی گئی ہے۔ ہوائی الیکٹرک حکام کا کہنا ہے کہ جب تک ہوا کی رفتار 30 میل فی گھنٹہ سے کم نہیں ہوتی، گرڈ کی مرمت کا کام شروع کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
کاہالو کے رہائشی مارک الانا نے بتایا کہ "رات 10 بجے بجلی گئی اور ایک گھنٹے بعد پانی لیونگ روم میں داخل ہونے لگا۔ ہم نے پہلے بھی طوفان دیکھے ہیں، لیکن اتنی تیزی سے بڑھتا ہوا پانی کبھی نہیں دیکھا۔”
گورنر جوش گرین نے وفاقی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بدھ کی صبح ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ نیشنل ویدر سروس نے طوفان کو ٹروپیکل ڈپریشن کا درجہ تو دے دیا ہے، لیکن سیلاب کا خطرہ بدستور برقرار ہے۔ جزائر کی زمین پہلے ہی پانی سے سیر شدہ ہے، جس کے باعث ہلکی بارش بھی پہاڑی علاقوں میں مزید تودے گرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
حکام نے شہریوں کو سڑکوں پر نہ نکلنے کی سخت تنبیہ کی ہے۔ اہم شاہراہوں پر ملبہ بکھرا پڑا ہے، جبکہ سیلابی ریلوں سے متاثرہ پلوں کی ساختی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
اندھیرے میں ڈوبے ہزاروں خاندانوں کے لیے بجلی کی بحالی کا انتظار طویل ہوتا جا رہا ہے۔ طوفان کے بادل ابھی بھی جزائر پر موجود ہیں، اس لیے ترجیح بحالی کے بجائے ریسکیو آپریشن ہے۔ تباہی کی اصل وسعت کا اندازہ تبھی ہو سکے گا جب بادل چھٹیں گے اور پانی اترے گا۔
