خان پور — پولیس نے منگل کے روز ایک کارروائی کے دوران 35 سالہ خاتون کو بازیاب کروا لیا، جسے اس کے اپنے بھائی نے گزشتہ 15 برسوں سے گھر کے ایک کمرے میں زنجیروں میں جکڑ کر رکھا ہوا تھا۔
پولیس نے خان پور کے علاقے جڑانوالہ میں ایک مخبر کی اطلاع پر گھر پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران ملنے والا منظر ہولناک تھا؛ خاتون، جس کی شناخت رضیہ کے نام سے ہوئی، ایک چھوٹے سے اندھیرے کمرے میں قید تھی۔ اس کے پاؤں بھاری زنجیروں سے بندھے ہوئے تھے اور وہ شدید غذائی قلت کا شکار تھی۔
پولیس کے مطابق، گرفتار ملزم محمد رفیق نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی بہن کو 20 سال کی عمر میں قید کیا تھا۔ اس بربریت کی وجہ خاندانی جائیداد کا تنازعہ اور لڑکی کا بھائی کی مرضی کے خلاف شادی کرنے سے انکار بتایا جا رہا ہے۔
آپریشن میں حصہ لینے والے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ "خاتون جس حالت میں رہ رہی تھی، وہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ کمرے میں نہ وینٹیلیشن کا انتظام تھا اور نہ ہی صفائی ستھرائی کی کوئی سہولت۔ وہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دنیا سے مکمل کٹی ہوئی تھی۔”
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے گھر سے دبی ہوئی آوازیں سنتے رہے، لیکن خاندان کے خوف سے کسی نے آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کی۔ خاتون 2009 سے گھر کی چار دیواری سے باہر نہیں نکلی تھی۔
بازیابی کے بعد خاتون کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز اسے طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق، رضیہ کی جسمانی حالت انتہائی کمزور ہے، جبکہ طویل عرصے تک تنہائی میں رہنے کے باعث اسے شدید نفسیاتی صدمے کا بھی سامنا ہے۔
پولیس نے ملزم رفیق کے خلاف حبسِ بے جا اور تشدد کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفتیشی حکام اب یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس جرم میں خاندان کے دیگر افراد بھی سہولت کار تھے یا نہیں۔
اس واقعے نے مقامی حقوقِ انسانی کی تنظیموں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جو سوال اٹھا رہی ہیں کہ آخر کیسے ایک طویل عرصہ تک یہ ظلم مقامی انتظامیہ اور اہل محلہ کی نظروں سے اوجھل رہا۔ فی الحال، تمام تر توجہ متاثرہ خاتون کی بحالی اور علاج پر مرکوز ہے۔
