اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن جماعت اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے پردے کے پیچھے این آر او حاصل کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے۔
وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی ملک بھر میں احتجاجی تحریک کو منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق، پی ٹی آئی کی قیادت عوامی سطح پر سخت گیر موقف اپنائے ہوئے ہے، لیکن اندرونِ خانہ وہ کسی نہ کسی طرح قانونی شکنجے سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں مصروف ہے۔
حکمران اتحاد کے لیے یہ بیانیہ سیاسی طور پر اہم ہے۔ حکومتی وزراء مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عمران خان کے خلاف مقدمات کا فیصلہ عدالتیں کریں گی، نہ کہ کوئی سیاسی ڈیل۔ خواجہ آصف کا یہ دعویٰ پی ٹی آئی کے اس بیانیے کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے جس میں وہ اپنے احتجاج کو ‘حقیقی آزادی’ کی تحریک قرار دیتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ "این آر او” کا لفظ پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جس کا مقصد مخالفین کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے۔ پی ٹی آئی اس الزام کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا موقف ہے کہ وہ کسی رعایت کے نہیں بلکہ آئین و قانون کی حکمرانی اور مینڈیٹ کی واپسی کے خواہاں ہیں۔
تاہم، خواجہ آصف کا اصرار ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی تمام تر ہنگامہ آرائی صرف ایک فرد کی رہائی کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کسی بھی قسم کے دباؤ میں آکر کوئی غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کرے گی۔
وفاقی دارالحکومت میں جاری یہ لفظی گولہ باری اس بات کی عکاس ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج مزید گہری ہو چکی ہے۔ جہاں پی ٹی آئی سڑکوں پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے حکومت کو دیوار سے لگانے کی حکمت عملی پر کاربند ہے، وہیں حکومت عدالتی عمل کو اپنی ڈھال بنا کر اپوزیشن کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس سیاسی کشمکش کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا، لیکن خواجہ آصف کے حالیہ بیان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت فی الحال کسی بھی سیاسی مفاہمت کے موڈ میں نہیں ہے۔
