وفاقی حکومت نے منگل کی رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا، جس سے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کو کسی حد تک ریلیف ملا ہے۔ 19 اگست سے پیٹرول کی قیمت میں 8.50 روپے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 260.50 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 6.40 روپے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل اب 266.15 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
یہ فیصلہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ کے بعد کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا براہِ راست تعلق عالمی مارکیٹ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر سے جڑا ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں گرتی ہیں، تو آئل اینڈ گاز ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اسی تناسب سے مقامی قیمتوں میں ردوبدل کرتی ہے۔
عام شہری کے لیے یہ کمی بظاہر ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن اس کے اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں ایندھن کے مہنگا ہونے پر تو فوراً بڑھ جاتی ہیں، مگر قیمتیں کم ہونے پر وہی تیزی منڈی میں دکھائی نہیں دیتی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم عالمی منڈی کے رجحانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر قیمتوں میں کمی کا یہ سلسلہ برقرار رہا تو اگلے جائزے میں مزید ریلیف کی گنجائش نکل سکتی ہے۔”
دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اہداف پورے کرنے کے لیے ٹیکس ریونیو برقرار رکھنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے عوام کو عالمی منڈی میں ہونے والی کمی کا مکمل فائدہ نہیں مل پاتا۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور دیگر ٹیکسز کی بھاری شرح اب بھی قیمتوں کو ایک خاص سطح سے نیچے نہیں آنے دیتی۔
حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عام آدمی تک کیسے پہنچائے جائیں۔ فی الحال، پیٹرول پمپ پر ملنے والا یہ معمولی ریلیف ایک عارضی سکون تو ہے، مگر مہنگائی کے مارے عوام کی نظریں اب کرایوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں پر جمی ہیں۔
