جنوبی الخلیل کی پہاڑیوں میں واقع ایک غار، جو چونے کے پتھر کو تراش کر بنائی گئی ہے، کئی دہائیوں سے نواجہ خاندان کا مسکن ہے۔ اسرائیل کے قیام اور 1967 کے قبضے سے بہت پہلے، یہ خاندان یہاں آباد تھا۔ آج یہی غاریں ایک طویل قانونی اور انسانی بحران کا مرکز بن چکی ہیں۔
اسرائیلی حکام نے اس علاقے کو "فائرنگ زون 918” قرار دے کر فوجی تربیت کا مقام قرار دیا ہے۔ نواجہ خاندان کے لیے یہ اصطلاح محض زمین پر قبضے کا ایک قانونی حربہ ہے۔ انہیں گھر گرانے کے نوٹسز سے لے کر پانی کی سپلائی لائنیں کاٹنے تک، ہر روز ایک نئی مشکل کا سامنا ہے۔
محمود نواجہ، جن کی عمر 64 برس ہے، کہتے ہیں، "ہم اپنی زمین پر قابض نہیں، بلکہ صدیوں سے یہاں کے باسی ہیں۔ وہ اسے فوجی ضرورت کا نام دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیں یہاں سے نکالنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔”
یہ قانونی جنگ دو دہائیوں سے اسرائیلی سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ 2022 میں عدالت نے فوج کو اس علاقے کے آٹھ دیہات سے ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی اجازت دے دی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، بشمول بی سیلم ، نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، کیونکہ جنیوا کنونشن کے تحت مقبوضہ علاقے میں مقامی آبادی کو جبری طور پر بے گھر کرنا ممنوع ہے۔
"فائرنگ زون” کا لیبل ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ آبائی چراگاہوں کو فوجی علاقہ قرار دے کر مقامی فلسطینیوں کے روایتی طرزِ زندگی کو مجرمانہ قرار دیا جاتا ہے۔ جب ایک بار زمین کو ‘کلوزڈ ملٹری زون’ قرار دے دیا جائے، تو وہاں پائیدار تعمیرات پر پابندی لگ جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خاندان یا تو غاروں میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں یا عارضی ڈھانچوں میں، جنہیں کسی بھی وقت ایک حکومتی حکم کے تحت مسمار کیا جا سکتا ہے۔
یہاں زندگی تضادات کا مجموعہ ہے۔ قریب ہی قائم اسرائیلی بستیوں میں پختہ سڑکیں، بجلی، اور پانی کی سہولیات موجود ہیں۔ صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر، فلسطینی باشندے پانی پلاسٹک کے ٹینکروں میں لانے پر مجبور ہیں اور ان کے سولر پینلز اکثر یہ کہہ کر ضبط کر لیے جاتے ہیں کہ ان کے پاس تعمیراتی اجازت نامہ نہیں ہے۔
نواجہ خاندان کے لیے یہ جدوجہد صرف ان پتھریلی دیواروں کو بچانے کی نہیں ہے، جو نسلوں سے ان کا ٹھکانہ رہی ہیں۔ یہ موجودگی کے حق کی جنگ ہے۔
محمود دور بستیوں کی روشنیوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہتے ہیں، "وہ ہمارے خیمے اکھاڑ سکتے ہیں اور غاروں کے راستے بند کر سکتے ہیں، لیکن وہ اس حقیقت کو مٹا نہیں سکتے کہ ہماری تاریخ ان پہاڑیوں کی مٹی میں لکھی ہوئی ہے۔”
فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور عالمی برادری اس معاملے پر تقسیم کا شکار ہے۔ جنوبی الخلیل کے رہائشیوں کی زندگی کا معمول وہی ہے؛ وہ صبح اٹھتے ہیں، اپنے ریوڑوں کو چراتے ہیں، اور ہر روز اس خوف کے ساتھ گزارتے ہیں کہ کہیں آج ان کا گھر محض ایک یاد بن کر نہ رہ جائے۔
