اڈیالہ جیل کے میڈیکل وارڈ میں زیرِ علاج بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ڈسچارج کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آ سکی ہے۔ سابق وزیراعظم کی صحت کو لے کر قانونی ٹیم اور جیل حکام کے بیانات میں تضاد برقرار ہے، جس سے قیاس آرائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
عمران خان کی عمر 71 برس ہے اور ان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر بارہا عدالت سے ایک خود مختار میڈیکل بورڈ کے قیام کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ قانونی ٹیم کا موقف ہے کہ انہیں جیل کے اندر فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر اعتماد نہیں ہے، جبکہ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز ہسپتال کے ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال سے واپسی صرف ان کی طبی رپورٹ پر منحصر نہیں ہے۔ ہر پیشی کے موقع پر انہیں ہسپتال سے عدالت منتقل کرنا سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ جیل حکام کے لیے انہیں میڈیکل وارڈ میں رکھنا انتظامی لحاظ سے آسان ہے، کیونکہ اس سے عدالت میں پیشی کے دوران درکار سیکیورٹی انتظامات میں سہولت رہتی ہے۔
ایک سینئر جیل عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "میڈیکل بورڈ روزانہ کی بنیاد پر وائٹلز چیک کرتا ہے۔ یہ کوئی کیلنڈر کی تاریخ نہیں ہے کہ جس دن وہ ٹھیک ہوئے، اسی دن واپس سیل میں بھیج دیا جائے گا۔”
یہ غیر یقینی صورتحال پی ٹی آئی کے کارکنوں میں تشویش کا باعث ہے، جو اسے ان کی قانونی قید کو طول دینے کا ایک طریقہ قرار دیتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، جب تک بانی پی ٹی آئی کے خلاف اہم مقدمات کی سماعت جاری ہے، ریاست انہیں ہسپتال سے نکال کر عام سیل میں منتقل کرنے کا خطرہ مول نہیں لے گی۔ ہسپتال کا ماحول سیکیورٹی اور میڈیا کی نظروں سے بچاؤ کے لیے حکام کی پہلی ترجیح معلوم ہوتا ہے۔
فی الحال عمران خان میڈیکل وارڈ میں ہی رہیں گے۔ ان کی واپسی کا انحصار اب ان کی صحت سے زیادہ اس عدالتی کیلنڈر پر ہے جو ان کی ہسپتال سے چھٹی کے منتظر ہے۔
