بھارت نے منگل کے روز ہاکی ورلڈ کپ کے اہم میچ میں پاکستان کو 1-4 سے یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر ٹورنامنٹ کے دوسرے مرحلے میں اپنی جگہ پکی کر لی۔ کپتان ہرمن پریت سنگھ کے دو گولوں نے پاکستان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، جبکہ اس شکست کے ساتھ ہی پاکستان ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہو گیا ہے۔
میچ کا آغاز تیز رفتار رہا، لیکن بھارت نے اپنی تکنیکی برتری اور نظم و ضبط سے پاکستانی ٹیم کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ کھیل کے دسویں منٹ میں بھارت کو پنالٹی کارنر ملا، جسے ہرمن پریت نے مہارت سے گول میں بدل کر اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ اس گول کے بعد بھارتی ٹیم کا اعتماد بڑھ گیا اور انہوں نے پاکستانی ڈیفنس پر دباؤ برقرار رکھا۔
پاکستانی مڈ فیلڈ میں تال میل کا فقدان واضح نظر آیا۔ کھلاڑی گیند کو قابو میں رکھنے اور درست پاس دینے میں ناکام رہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ابھیشیک نے ہاف ٹائم سے قبل دوسرا گول کر کے برتری کو دوگنا کر دیا۔ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کے چہروں پر مایوسی صاف عیاں تھی کیونکہ وہ بھارتی حملوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہو رہے تھے۔
دوسرے ہاف میں پاکستان نے واپسی کی کوشش کی اور 48ویں منٹ میں پنالٹی اسٹروک کے ذریعے ایک گول اسکور کیا، مگر یہ کوشش صرف ایک تسلی بخش گول تک محدود رہی۔ بھارت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے آخری کوارٹر میں مزید دو گول کر کے میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔
میچ کے اختتام پر بھارتی کوچ نے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم یہاں صرف جیتنے نہیں، بلکہ اپنی حکمت عملی پر مکمل عمل کرنے آئے تھے،” انہوں نے مزید کسی تعریف کے بجائے اگلے مرحلے کی تیاریوں پر توجہ مرکوز رکھنے کا اشارہ دیا۔
پاکستان کے لیے یہ شکست ورلڈ کپ مہم کا مایوس کن اختتام ہے۔ پاکستانی ٹیم نہ تو بھارت کے ہائی پریس کا توڑ کر سکی اور نہ ہی ملے مواقعوں کو گول میں بدلنے کی صلاحیت دکھا پائی۔ میچ کے بعد پاکستانی کھلاڑی خاموشی سے میدان سے باہر نکلے، جبکہ ٹیم انتظامیہ کو اب قومی ہاکی کے زوال پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بھارت اب ناک آؤٹ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگلے راؤنڈ میں ان کا مقابلہ ایک بڑی یورپی ٹیم سے ہوگا، جو یہ ثابت کرے گا کہ بھارتی ٹیم میں ٹورنامنٹ جیتنے کی اصل صلاحیت کتنی ہے۔
