برطانیہ نے فضائی سفر کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک اہم تجربہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد طیاروں کے پیچھے بننے والی سفید لکیروں کے گلوبل وارمنگ پر اثرات کو محدود کرنا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ پرواز کی اونچائی میں معمولی تبدیلی سے موسمیاتی تغیر کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔
یہ سفید لکیریں دراصل طیاروں کے انجن سے نکلنے والے بخارات ہیں جو فضا میں برف کے کرسٹل بن کر بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق، یہ بادل فضا میں حرارت کو قید کر لیتے ہیں، جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھتا ہے۔ کئی تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ ان لکیروں کا اثر طیاروں کے ایندھن سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر ہو سکتا ہے۔
برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے تحت شروع کیے گئے اس منصوبے میں ٹرانس اٹلانٹک پروازوں کے دوران طیاروں کی بلندی کو 2 ہزار فٹ تک اوپر یا نیچے تبدیل کیا جائے گا۔ اس کا مقصد ان مخصوص فضائی تہوں سے بچنا ہے جہاں نمی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے اور جہاں یہ لکیریں دیرپا اثرات چھوڑتی ہیں۔
منصوبے سے وابستہ ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ "اگر ہمیں نیٹ زیرو کے اہداف حاصل کرنے ہیں تو ہوا بازی کے شعبے کو تبدیل ہونا پڑے گا۔ انجن کی ٹیکنالوجی بدلنے کے بجائے، اگر ہم پرواز کے طریقوں میں معمولی تبدیلی سے موسمیاتی اثرات کم کر سکیں، تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔”
اس تجربے میں ایک تکنیکی چیلنج بھی ہے۔ جب کوئی طیارہ اپنا راستہ یا اونچائی بدلتا ہے تو اسے زیادہ ایندھن جلانا پڑتا ہے۔ اب سائنسدان یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا ان لکیروں کے خاتمے سے حاصل ہونے والا ماحولیاتی فائدہ، اضافی ایندھن کے جلنے سے ہونے والے نقصان سے زیادہ ہے یا نہیں۔
اس سے قبل ‘بریک تھرو انرجی’ جیسی تنظیموں کی ابتدائی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مخصوص فضائی راستوں سے بچ کر پرواز کے گرمی پیدا کرنے والے اثرات کو 60 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، بحر اوقیانوس کے مصروف ترین راستوں پر جہاں پہلے ہی ٹریفک کا شدید دباؤ ہوتا ہے، اس حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانا ایک بڑا امتحان ہے۔
ایوی ایشن انڈسٹری اس تجربے کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر اعداد و شمار یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ اونچائی میں معمولی تبدیلی سے گلوبل وارمنگ میں کمی ممکن ہے، تو آنے والے چند برسوں میں یہ بین الاقوامی پروازوں کا معمول بن سکتا ہے۔
فی الحال یہ منصوبہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے مرحلے میں ہے۔ کامیابی کا پیمانہ صرف آسمان پر نظر آنے والی ان لکیروں کا غائب ہونا نہیں، بلکہ فضا میں قید ہونے والی کل حرارت میں حقیقی کمی ہوگی۔
