سری لنکا کے شمالی ضلع منار میں ایک اجتماعی قبر سے 582 انسانی ڈھانچے دریافت ہوئے ہیں، جو ملک کی دہائیوں پر محیط خانہ جنگی کے تاریک ترین پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 2018 میں ایک شاپنگ کمپلیکس کی تعمیر کے دوران دریافت ہونے والی اس اجتماعی قبر میں کم از کم 29 بچوں کی باقیات بھی موجود ہیں، جن کی تصدیق فرانزک ماہرین نے کی ہے۔
یہ مقام تھیروکیتیشورم مندر کے قریب واقع ہے، جو خانہ جنگی کے دوران سرکاری فوج اور تامل ٹائیگرز کے درمیان شدید لڑائی کا مرکز رہا۔ ہزاروں لاپتہ افراد کے لواحقین کے لیے یہ ہولناک دریافت ان خدشات کی تصدیق ہے جو وہ برسوں سے اپنے پیاروں کے بارے میں پالے ہوئے تھے۔
ایک مقامی سماجی کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم یہاں صرف ہڈیاں نہیں دیکھ رہے، بلکہ خاندانوں کے خاتمے کا ثبوت دیکھ رہے ہیں۔ بچوں کی باقیات کی موجودگی اس کمیونٹی کے لیے مزید اذیت ناک ہے جو آج بھی ریاست سے جواب کی منتظر ہے۔”
کھدائی کا عمل طویل عرصے تک سیاسی رکاوٹوں اور حکومتی سرد مہری کا شکار رہا۔ فرانزک ماہر آثار قدیمہ راج سوما دیوا، جنہوں نے اس تحقیقات کی قیادت کی، کا کہنا ہے کہ باقیات کو جس انداز میں رکھا گیا تھا، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کسی منظم تدفین کے بجائے اجتماعی طور پر گڑھے میں پھینکا گیا تھا۔ کاربن ڈیٹنگ سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ باقیات 1990 کی دہائی میں خانہ جنگی کے عروج کے دور کی ہیں۔
باقیات تو مل گئیں، مگر ان کی شناخت کا عمل آج بھی تعطل کا شکار ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے سری لنکن حکومت کو اس معاملے میں شفافیت نہ برتنے اور متاثرہ خاندانوں کو ڈی این اے ٹیسٹ جیسی سہولیات فراہم نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انصاف کی فراہمی کے بجائے، لواحقین کے پاس اب صرف تشدد کے ان ٹھوس ثبوتوں کے سوا کچھ نہیں، اور حکومت کی جانب سے جوابدہی کا فقدان برقرار ہے۔
یہ دریافت 26 سالہ خانہ جنگی کے ان زخموں کی یاد دلاتی ہے جو آج بھی تازہ ہیں۔ حکومت نے لاپتہ افراد کے معاملے کو حل کرنے کے لیے ماضی میں کئی کمیشن بنائے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی لاپتہ افراد کی مکمل فہرست جاری کی اور نہ ہی منار میں ہونے والے اس قتل عام کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔
منار کے مکینوں کے لیے یہ جگہ اب کوئی کاروباری پلاٹ نہیں، بلکہ ایک ایسا جائے وقوعہ ہے جسے حکومت تاحال تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ تحقیقات اپنے اختتامی مراحل میں ہیں، لیکن بنیادی سوال اب بھی وہی ہے: ریت تلے دفن ان سینکڑوں جانوں کا قاتل کون ہے؟
