کولمبیا کے صوبے کائوکا میں منگل کے روز شدید بارشوں کے باعث پہاڑی تودہ گرنے سے غیر قانونی سونے کی کان دب گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثہ سانٹینڈر ڈی کوئلیچاؤ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں حکومتی ضوابط سے آزاد غیر رسمی کان کنی کا کام برسوں سے جاری ہے۔
امدادی ٹیموں نے دن بھر کیچڑ اور ملبے میں تلاش کا کام جاری رکھا۔ بدھ کی صبح تک ریسکیو حکام نے 13 لاشوں کی تصدیق کر دی ہے۔ مقامی حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ لاپتہ کان کنوں کے اہل خانہ مسلسل مدد کے لیے رابطہ کر رہے ہیں۔
یہ کان ایک عارضی ڈھانچہ تھی جس میں گہری کھدائی کے لیے درکار حفاظتی اقدامات کا نام و نشان نہیں تھا۔ علاقے میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے مٹی کو دلدل بنا دیا تھا، جس سے کان کے اوپر موجود پہاڑی کا تودہ اچانک نیچے آ گرا۔
امدادی کارروائیوں میں شامل ایک مقامی عہدیدار نے بتایا، "یہ لوگ ایسی حالت میں کام کر رہے تھے جو موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یہاں نہ کوئی نگرانی ہے، نہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا کوئی طریقہ، اور نہ ہی بارشوں کے دوران ڈھلوان کو مستحکم رکھنے کا کوئی انتظام۔”
کولمبیا میں غیر قانونی کان کنی ایک دیرینہ بحران ہے۔ غربت کے شکار ہزاروں مقامی افراد پیٹ بھرنے کے لیے ان خطرناک گڑھوں میں سونا تلاش کرنے پر مجبور ہیں، جہاں اکثر انہیں اپنی جانوں کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔ حکومت وقتاً فوقتاً کریک ڈاؤن کے دعوے تو کرتی ہے، لیکن یہ چھوٹی اور خفیہ کانیں ایسے علاقوں میں راتوں رات کھد جاتی ہیں جہاں ریاست کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ رواں برس علاقے میں پیش آنے والا سب سے ہلاکت خیز کان کنی کا حادثہ ہے۔ فی الحال ریسکیو ٹیموں کی پوری توجہ ملبے کو ہٹانے پر ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی اور شخص تودے تلے دبا نہ ہو۔
اس سانحے نے ایک پورے خاندانوں کو سوگوار کر دیا ہے، جو اس صنعت کی انسانی قیمت کو ظاہر کرتا ہے جو مکمل طور پر تاریکی اور قانون سے بالاتر ہو کر چلائی جا رہی ہے۔
