اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر حکام نے سیکیورٹی کے حتمی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ یہ پیش رفت ان خدشات کے بعد سامنے آئی ہے جو سابق وزیراعظم کی قانونی ٹیم کی جانب سے ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے مسلسل ظاہر کیے جا رہے تھے۔
پولیس اور جیل انتظامیہ نے ہسپتال منتقلی کی صورت میں ایک ہائی سیکیورٹی روٹ تیار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، خصوصی دستوں کو ان کی سیکیورٹی پر مامور کیا گیا ہے، جبکہ جیل کے باہر اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے سیکیورٹی حصار کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ منتقلی کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کی حتمی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کا موقف ہے کہ جیل میں انہیں درکار طبی سہولیات میسر نہیں ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔ وکیلوں کی جانب سے عدالت میں بارہا یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ انہیں فوری طور پر ماہر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی طبی معائنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب جیل حکام ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل کے اندر ہی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ترجمان جیل خانہ جات کے مطابق، ایک خصوصی میڈیکل ٹیم ہمہ وقت ان کی صحت کی نگرانی کر رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں سہولیات کا معاملہ عدالتوں اور سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہو۔ اس سے قبل بھی ان کی منتقلی کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے ریاست محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
میڈیکل بورڈ کی جانب سے آج ہونے والا طبی معائنہ اس معاملے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر بورڈ نے ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی، تو سیکیورٹی پلان کو فوری طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ جیل کے باہر پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انتظامیہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
فیصلے کا حتمی اعلان آج شام تک متوقع ہے۔
