وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملک بھر میں قائم غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں میں ہونے والے چھاپوں کے دوران ایسے درجنوں مراکز کو سیل کر دیا گیا ہے جو مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کو لوٹنے اور مالیاتی فراڈ میں ملوث تھے۔
یہ کارروائی محض ایک قانونی کارروائی نہیں، بلکہ پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کے وقار کو بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ایف بی آئی اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے پاکستان سے ہونے والی ‘وائس فشنگ’ کی شکایات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ یہ کال سینٹرز خود کو بینک یا آئی ٹی سپورٹ کے نمائندے ظاہر کر کے لوگوں کی حساس معلومات چراتے ہیں اور پھر ان کے اکاؤنٹ سے رقوم نکال لیتے ہیں۔
ایف آئی اے کی حالیہ کارروائیوں میں سیکڑوں کمپیوٹرز، جدید سرورز اور وہ سکرپٹس قبضے میں لیے گئے ہیں جنہیں لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ادارے کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے نشانے پر وہ نیٹ ورکس ہیں جو منظم جرائم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "یہ کوئی جائز کاروبار نہیں بلکہ جرائم پیشہ گروہوں کے اڈے ہیں، اور ہم ان کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔”
پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، لیکن ان غیر قانونی مراکز نے ملک کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو بہت پہلے ان کے خلاف سخت گیر موقف اپنانا چاہیے تھا۔ یہ مراکز اکثر رہائشی علاقوں میں قائم ہوتے ہیں، جہاں سے یہ لوگ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بیرونِ ملک بیٹھے افراد کو اپنا شکار بناتے ہیں۔
اب حکومت ان تمام کال سینٹرز کے لیے سخت ضابطہ اخلاق لانے پر غور کر رہی ہے جو بین الاقوامی سطح پر خدمات فراہم کرتے ہیں۔ آئی ٹی انڈسٹری کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ ان چھاپوں سے جائز کاروبار متاثر نہ ہوں، تاہم وہ بھی اس بات سے متفق ہیں کہ ان مجرمانہ سرگرمیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل سے اب ان کال سینٹرز کے مالیاتی ٹرانزیکشنز کا سراغ بھی لگایا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن تب تک جاری رہے گا جب تک ان نیٹ ورکس کی کمر نہیں ٹوٹ جاتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان سخت اقدامات کے بعد کتنی جلدی اس غیر قانونی دھندے کا مکمل صفایا ہوتا ہے۔
