فلوریڈا کے ساحل پر پانچ روز تک سمندر کی لہروں کے رحم و کرم پر رہنے والے دو ماہی گیروں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ نے منگل کی صبح انہیں گلف آف میکسیکو سے اس وقت ریسکیو کیا جب وہ ایک پلاسٹک کے کولر کا سہارا لیے پانی پر تیر رہے تھے۔
یہ دونوں ماہی گیر گزشتہ جمعرات کو اس وقت لاپتہ ہوئے تھے جب ان کی 24 فٹ لمبی کشتی میں اچانک پانی بھر گیا اور وہ ڈوب گئی۔ کشتی ڈوبنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ انہیں ہنگامی سگنل بھیجنے یا لائف جیکٹ پہننے کا موقع تک نہیں ملا۔ ان کے پاس بچنے کا واحد ذریعہ ایک بڑا انسولیٹڈ کولر تھا، جسے انہوں نے اپنی زندگی بچانے کے لیے مضبوطی سے تھام لیا۔
ریسکیو آپریشن میں شامل پیٹی آفیسر مائیکل ڈینائس نے میڈیا کو بتایا کہ جب انہیں ڈھونڈا گیا تو وہ شدید نڈھال اور پانی کی کمی کا شکار تھے، لیکن ہوش میں تھے اور بات کرنے کے قابل تھے۔
تلاش کا یہ عمل انتہائی مشکل ثابت ہوا کیونکہ سمندری لہروں نے انہیں ان کی اصل جگہ سے میلوں دور دھکیل دیا تھا۔ اسی دوران طوفانی موسم نے کوسٹ گارڈ کی ٹیموں کے لیے مشکلات پیدا کیں، تاہم فضائی اور سمندری تلاش کے مشترکہ آپریشن کے ذریعے انہیں ڈھونڈ لیا گیا۔
ماہرینِ بقا کا کہنا ہے کہ پانچ دن تک سمندر میں کھلے آسمان تلے رہنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ جھلسا دینے والی دھوپ، نمکین پانی اور سمندری حیات کے خطرات کے باوجود کولر نے انہیں ڈوبنے سے بچائے رکھا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق دونوں افراد کی حالت اب مستحکم ہے اور انہیں اگلے 48 گھنٹوں میں ڈسچارج کر دیا جائے گا۔ کوسٹ گارڈ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر فی الحال ان کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق کشتی کے اچانک ڈوبنے کی وجہ میکانیکی خرابی یا ہال میں پانی کا بے تحاشا داخل ہونا ہو سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سمندر میں ایک چھوٹی سی غلطی کس قدر مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، اور کس طرح محض ایک پلاسٹک کے ڈبے نے دو خاندانوں کو اپنے پیاروں سے دوبارہ ملا دیا۔
