واشنگٹن نے تہران کے خلاف اپنی جارحانہ پالیسی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ امریکی حکام نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایرانی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے، جس سے بالآخر موجودہ حکومت کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔
یہ حکمت عملی گزشتہ سفارتی کوششوں سے یکسر مختلف ہے۔ اب توجہ پالیسی میں تبدیلی کے بجائے براہِ راست ایرانی ریاست کے مالیاتی ڈھانچے کو تباہ کرنے پر مرکوز ہے۔ تیل کی برآمدات پر پابندیوں اور عالمی بینکنگ سسٹم تک رسائی کو محدود کر کے امریکہ تہران کو اس مالی وسائل سے محروم کرنا چاہتا ہے، جن پر ان کی داخلی سیکیورٹی اور علاقائی اثر و رسوخ کا انحصار ہے۔
اس صورتحال کا براہِ راست اثر عام ایرانی شہری پر پڑ رہا ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور متوسط طبقے کی جمع پونجی ختم ہو رہی ہے۔ واشنگٹن کی منطق یہ ہے کہ اگر حکومت معاشی استحکام فراہم کرنے میں ناکام رہی، تو اندرونی اختلاف کو دبانے کی قیمت اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جائے گی۔
محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم صرف معمولی پابندیوں کی بات نہیں کر رہے۔ ہمارا ہدف ایرانی معاشی ماڈل کو غیر فعال کرنا ہے۔ مقصد ایک ایسی حقیقت پیدا کرنا ہے جہاں قیادت کو اپنی علاقائی مہم جوئی اور اپنی بقا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔”
تہران نے ان دھمکیوں کو "معاشی دہشت گردی” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی قیادت اپنے "مزاحمتی معیشت” کے ماڈل پر انحصار کر رہی ہے، جس کے تحت وہ روس اور چین کے ساتھ خفیہ تجارت اور اشیاء کے تبادلے کے ذریعے پابندیوں کا توڑ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ عارضی اقدامات روایتی برآمدی آمدنی کے نقصان کی تلافی کے لیے کافی نہیں ہیں۔
یہ صورتحال وائٹ ہاؤس کے لیے ایک بڑا جوا ہے۔ جہاں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاشی دباؤ ہی خطے میں استحکام کا واحد راستہ ہے، وہیں ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کا دباؤ اکثر سخت گیر عناصر کو مزید مضبوط کر دیتا ہے، جو بیرونی خطرے کا جواز بنا کر داخلی اپوزیشن پر گرفت مزید سخت کر لیتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ شدید معاشی دباؤ کا شکار حکومتیں کبھی بھی پیش گوئی کے مطابق نہیں گرتی ہیں۔ اس کے برعکس، وہ سیکیورٹی فورسز کی وفاداری برقرار رکھنے کے لیے عوام پر بوجھ ڈال دیتی ہیں، جس سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
جیسے جیسے امریکہ نئی مالیاتی پابندیاں نافذ کر رہا ہے، اب سوال یہ ہے کہ تہران کب تک اپنی خفیہ تجارتی لائنوں کے ذریعے اس دباؤ کو برداشت کر سکے گا۔ ایرانی حکومت کی بقا اب اس بات پر منحصر ہے کہ کیا ان کے خفیہ ذرائع واشنگٹن کی معاشی ناکہ بندی کی رفتار کا مقابلہ کر پائیں گے یا نہیں۔
