اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اپنی رہائش گاہ پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر سے ملاقات کے بعد فضل الرحمان نے ایک "متحدہ اپوزیشن” کے قیام کا اشارہ دیا ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب موجودہ حکومت کو معاشی بحران اور انتخابی نتائج پر شدید عوامی و سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ وہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر ایک مضبوط محاذ تیار کرنا چاہتے ہیں۔
ملاقات کے شرکاء کے مطابق، بات چیت کا محور آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کے اندر حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں نے انتخابی عمل اور عدلیہ سے متعلق اپنے تحفظات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
پی ٹی آئی کے لیے یہ رابطہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اسد قیصر کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ تحریک انصاف اب سیاسی تنہائی ختم کرنے کے لیے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر چلنے پر آمادہ ہے۔ دوسری جانب محمود خان اچکزئی، جو مذہبی اور قوم پرست حلقوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر رہے ہیں، کا ماننا ہے کہ جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے اپوزیشن کا یکجا ہونا ناگزیر ہے۔
تاہم، اس اتحاد کی راہ میں بڑی رکاوٹ جماعتوں کے مابین موجود پرانا عدم اعتماد ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے ماضی میں حکومتی اتحاد کا حصہ رہنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کئی حلقے ان کی نیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ اتحاد طویل عرصے تک قائم رہ سکے گا یا حکومتی دباؤ اور پیشکشوں کے بعد بکھر جائے گا، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔
فی الحال، اس ملاقات نے دارالحکومت کی سیاسی فضا کو گرما دیا ہے۔ اپوزیشن اب بکھرے ہوئے احتجاج کے بجائے ایک مربوط پارلیمانی فرنٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حکومت اس اتحاد کا جواب کس انداز میں دیتی ہے اور کیا وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی ہے یا محاذ آرائی کا، یہ فیصلہ ہی آئندہ مہینوں کی ملکی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔
