پاکستان میں خواتین کو واٹس ایپ کے ذریعے پارسل فراڈ کا نشانہ بنانے کی وارداتوں میں تیزی آ گئی ہے۔ جعلساز معروف کوریئر کمپنیوں کا روپ دھار کر متاثرین کو پیغام بھیجتے ہیں کہ ان کا کوئی پارسل کسی قریبی ہب پر "کسٹم ڈیوٹی” یا "پتے میں غلطی” کے باعث رکا ہوا ہے۔
یہ فراڈ نفسیاتی دباؤ پر مبنی ہے۔ متاثرہ خاتون کو ایک پیغام موصول ہوتا ہے جس میں کوریئر کمپنی کا لوگو استعمال کیا جاتا ہے، اور اسے کہا جاتا ہے کہ اپنی تفصیلات کی تصدیق کے لیے لنک پر کلک کریں۔ لنک پر کلک کرتے ہی ایک جعلی ویب سائٹ کھلتی ہے جو "ڈیلیوری فیس” کی مد میں معمولی رقم ادا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، جس کے لیے بینک کارڈ کی تفصیلات مانگی جاتی ہیں۔
کراچی کی ایک رہائشی نے بتایا کہ انہیں ایک بین الاقوامی نمبر سے میسج آیا جس میں ان کا نام اور گھر کا پتہ درست درج تھا۔ "یہ بالکل ایک عام ٹریکنگ اپ ڈیٹ لگ رہا تھا۔ جب میں نے فیس ادا کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی تو انہوں نے دھمکی دی کہ پارسل چند گھنٹوں میں واپس بھیج دیا جائے گا۔”
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ ایک کلاسک فشنگ حملہ ہے۔ ان کا مقصد ڈیلیوری فیس نہیں، بلکہ صارف کے بینک کارڈ کا ڈیٹا چرانا ہے۔ ایک بار جب متاثرہ شخص کارڈ کی تفصیلات درج کر دیتا ہے، تو جعلساز ان تفصیلات کا استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹ سے بڑی رقوم منتقل کر لیتے ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ایسی شکایات موصول ہو رہی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان گروہوں کا سراغ لگانا مشکل ہے۔ زیادہ تر جعلساز پاکستان سے باہر بیٹھ کر جعلی نمبروں اور انکرپٹڈ میسجنگ ایپس کا استعمال کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ماہرین کا ایک ہی مشورہ ہے: اگر آپ نے کوئی پارسل آرڈر نہیں کیا تو کسی بھی لنک پر کلک نہ کریں۔ اسلام آباد میں مقیم ایک سیکیورٹی کنسلٹنٹ نے واضح کیا کہ "پاکستان میں کوئی بھی مستند کوریئر سروس واٹس ایپ پر کسٹم ڈیوٹی کے لیے پیمنٹ لنک نہیں بھیجتی۔ ایسے پیغامات ملتے ہی نمبر کو بلاک کریں اور واٹس ایپ پر رپورٹ کریں۔”
یہ بڑھتے ہوئے واقعات پاکستان میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی حفاظت پر سوالیہ نشان ہیں۔ فی الحال اس کا واحد دفاع احتیاط ہے۔ اگر آپ کو کوئی مشکوک پارسل نوٹیفکیشن موصول ہو، تو کوریئر کمپنی کی آفیشل ایپ یا ویب سائٹ پر جا کر چیک کریں، کسی بھی چیٹ لنک پر ہرگز بھروسہ نہ کریں۔
