لاہور کی مقامی عدالت نے حنا جاوید قتل کیس میں گرفتار مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازمہ کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے تفتیشی ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ وقت میں شواہد اکٹھے کر کے رپورٹ پیش کرے۔
تفتیشی حکام نے ملزمان کو سخت سکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا۔ پولیس کا موقف تھا کہ قتل کے آلہِ واردات کی برآمدگی اور واقعے کے محرکات جاننے کے لیے ملزمان سے تفصیلی پوچھ گچھ ناگزیر ہے۔ عدالت کے روبرو پولیس نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں کئی تضادات سامنے آئے ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے ملزمان کا کسٹڈی میں ہونا ضروری ہے۔
حنا جاوید کی موت کے بعد مقتولہ کے لواحقین نے شوہر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل ہے۔ پولیس نے مقتولہ کے ورثاء کی مدعیت میں مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تفتیش سے وابستہ ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم جائے وقوعہ سے ملنے والے فرانزک شواہد اور مقتولہ کے موبائل فون کا ڈیٹا کھنگال رہے ہیں۔ ملزمان کے بیانات میں تضاد ہے، جس سے کیس کی کڑیاں ملانے میں مدد ملے گی۔”
گھریلو ملازمہ کا کردار بھی تفتیش کا مرکزی نقطہ ہے۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا ملازمہ واقعے کے وقت وہاں موجود تھی یا اسے قتل کے بعد کی صورتحال کا علم تھا۔ ملزمان تاحال اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر رہے ہیں، تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران ان سے اہم انکشافات متوقع ہیں۔
چار روزہ ریمانڈ ختم ہونے کے بعد پولیس کو دوبارہ ملزمان کو عدالت میں پیش کرنا ہوگا۔ اس کیس نے شہر میں بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد اور پراسرار اموات کے واقعات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جس پر عوامی حلقوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
