اسلام آباد: کئی برسوں سے پاکستان کی معیشت ایک ایسے چکر میں پھنسی رہی ہے جس میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے، روپے پر دباؤ بڑھتا، مہنگائی میں اضافہ ہوتا، درآمدات محدود کرنا پڑتیں اور حکومت ایک بار پھر عالمی مالیاتی ادارے سے مدد لینے پر مجبور ہوجاتی۔ کچھ عرصے کی سخت مالیاتی پالیسیوں کے بعد معیشت میں استحکام آتا اور پھر یہی چکر دوبارہ شروع ہوجاتا۔
تاہم 2026 کی دوسری ششماہی میں پاکستان ایک مختلف معاشی صورتحال کے ساتھ داخل ہورہا ہے۔ معیشت میں استحکام آیا ہے، مالیاتی صورتحال بہتر ہوئی ہے، حالیہ بحران کے مقابلے میں مہنگائی کافی حد تک قابو میں ہے، زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بڑھ گئے ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے نے موجودہ اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد کو بھی تسلیم کیا ہے۔
یہ اہم کامیابیاں ہیں، لیکن ان کے بعد ایک زیادہ مشکل سوال سامنے آتا ہے: معاشی استحکام کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
پاکستان معاشی بحران اور ڈیفالٹ جیسے خطرات سے بچنے کی صلاحیت بہتر بنا چکا ہے، لیکن اب تک یہ ثابت نہیں کرسکا کہ وہ ایسی پائیدار، سرمایہ کاری پر مبنی اور برآمدات کے ذریعے چلنے والی ترقی حاصل کرسکتا ہے جو عوام کی زندگی میں نمایاں بہتری لائے۔ یہی آنے والی دہائی کا سب سے بڑا معاشی چیلنج بن سکتا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار پاکستان کی بیرونی مالی صورتحال میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ عرصے کے دوران ملک کا جاری کھاتہ 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، جبکہ مالی سال کے دوران ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
15 مئی تک اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 17.1 ارب ڈالر تھے، جبکہ کمرشل بینکوں سمیت مجموعی ذخائر 22.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے بھی معاشی شرح نمو میں بہتری، مہنگائی پر قابو اور توقعات سے زیادہ زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ معاشی استحکام کا پروگرام اپنے فوری مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اب اصل چیلنج اس استحکام کو مضبوط اور پائیدار معاشی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔
پاکستان کو صرف مثبت معاشی شرح نمو کی ضرورت نہیں بلکہ ایسی بلند اور مسلسل ترقی درکار ہے جو معیارِ زندگی بہتر بنانے کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ حکومت کو تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ پر اخراجات کے لیے زیادہ وسائل درکار ہیں۔
تقریباً 3 سے 4 فیصد کی شرح نمو معیشت کو آگے بڑھا سکتی ہے، لیکن یہ عوام کے معیارِ زندگی کو مطلوبہ رفتار سے تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ پاکستان کو ایک پرانا مسئلہ بھی درپیش ہے کہ جب معاشی ترقی تیز ہوتی ہے تو درآمدات بھی تیزی سے بڑھنے لگتی ہیں۔
اس کے نتیجے میں ایک معروف سلسلہ شروع ہوجاتا ہے: تیز رفتار ترقی، بیرونی خسارے میں اضافہ، روپے پر دباؤ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور پھر ایک نئے معاشی استحکام پروگرام کی ضرورت۔
اس لیے بنیادی مسئلہ صرف تیز معاشی ترقی حاصل کرنا نہیں بلکہ ترقی کا انداز تبدیل کرنا ہے۔ آنے والی معاشی توسیع کو برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں ایسا اضافہ پیدا کرنا ہوگا جو خود اس ترقی کو مالی سہارا دے سکے۔
پاکستان کے معاشی ماڈل کی ایک بڑی کمزوری برآمدات ہیں۔ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ عرصے میں اشیا کی برآمدات 22.7 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 50.7 ارب ڈالر رہیں۔
یہ اعداد و شمار ایک بنیادی مسئلے کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت جس سطح پر اشیا استعمال اور سرمایہ کاری کرتی ہے، اس کے لیے جتنے زرمبادلہ کی ضرورت ہوتی ہے، ملکی برآمدات اس کا بڑا حصہ فراہم نہیں کرتیں۔ ترسیلاتِ زر اس خلا کا ایک حصہ پورا کرتی ہیں جبکہ بیرونی مالی معاونت دوسرے حصے کو سہارا دیتی ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی مسابقتی برآمدی معیشت کا متبادل نہیں۔
اس لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ پاکستان اتنی زیادہ درآمدات کیوں کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ ملک اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیوں نہیں کرپایا۔
درآمدات میں کمی عارضی طور پر بیرونی ادائیگیوں کا توازن بہتر کرسکتی ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ درآمدی پابندیاں سرمایہ کاری، کھپت اور معاشی سرگرمی کو بھی محدود کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں برآمدات میں اضافہ معیشت کو بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس ترقی کے لیے مطلوبہ زرمبادلہ بھی فراہم کرتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کی طویل مدتی معاشی حکمت عملی کو قلت کے انتظام سے نکل کر مسابقتی صلاحیت پیدا کرنے کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔
معیشت کا ایک اور اہم پہلو بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے۔ مالی سال 2026 میں 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر زرمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہیں۔
تاہم اس میں ایک اہم تضاد بھی موجود ہے۔ ایک خوشحال ملک کی معیشت کی بنیاد صرف افرادی قوت کو بیرونِ ملک بھیجنے کے بجائے مصنوعات، خدمات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ برآمد کرنے پر ہونی چاہیے۔
پاکستان کو اس لیے یہ سوال بھی اٹھانا ہوگا کہ ایک باصلاحیت نوجوان پاکستانی کو عالمی معیار کی آمدنی حاصل کرنے کے لیے ملک چھوڑنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔
اس سوال کا جواب اطلاعاتی ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ خدمات، انجینئرنگ، ڈیجیٹل تجارت اور دیگر بین الاقوامی سطح پر فروخت ہونے والی خدمات جیسے شعبوں میں موجود امکانات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان شعبوں کی ترقی کے لیے بہتر بنیادی ڈھانچہ، معیاری تعلیم، مؤثر قوانین، مضبوط مالیاتی نظام اور ایسا کاروباری ماحول درکار ہے جس میں ہنرمند افراد ملک میں رہتے ہوئے عالمی منڈی سے آمدنی حاصل کرسکیں۔
توانائی بھی معاشی ترقی کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ کاروباری اداروں کے لیے مہنگی یا غیر یقینی بجلی اور گیس صرف تکلیف نہیں بلکہ براہ راست مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔
پاکستان کو ایسے توانائی نظام کی ضرورت ہے جو مالی طور پر پائیدار، قابلِ اعتماد اور پیداواری شعبوں کے لیے مسابقتی ہو۔ اس مقصد کے لیے نرخوں، سبسڈیز، بجلی کی تقسیم میں نقصانات اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے متعلق مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔
معاشی تبدیلی کسی ایک بڑی پالیسی کے نتیجے میں نہیں آتی۔ یہ درجنوں ایسے مسائل حل کرنے سے پیدا ہوتی ہے جو کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدات کو آسان بناتے ہیں۔
ٹیکس اصلاحات کا مقصد پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنا ہونا چاہیے۔ توانائی اصلاحات سے پیداوار کی لاگت کم اور فراہمی زیادہ قابلِ اعتماد ہونی چاہیے۔ سرکاری اداروں کی اصلاحات سے قومی خزانے پر بوجھ کم اور خدمات کا معیار بہتر ہونا چاہیے۔
تعلیمی اخراجات کا مقصد ایسے کارکن تیار کرنا ہونا چاہیے جو زیادہ قدر رکھنے والی صنعتوں میں عالمی سطح پر مقابلہ کرسکیں۔ اسی طرح ضابطہ جاتی اصلاحات کاروبار شروع اور وسعت دینے کے عمل کو مشکل بنانے کے بجائے آسان کریں، جبکہ تجارتی پالیسی ملکی اداروں کو عالمی منڈی میں مقابلے کے لیے تیار کرے، نہ کہ انہیں مستقل طور پر مقامی تحفظ فراہم کرے۔
پاکستان یہ ثابت کرچکا ہے کہ وہ معاشی بحرانوں سے نکل سکتا ہے۔ اس نے یہ بھی دکھایا ہے کہ مشکل مالیاتی اور زری اصلاحات کے ذریعے استحکام واپس لایا جاسکتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بنائے جاسکتے ہیں اور بیرونی اعتماد بحال کیا جاسکتا ہے۔
لیکن اگلا امتحان کہیں زیادہ مشکل ہے۔
ملک کو یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا کاروباری ادارے اس اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کریں گے کہ وہ عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بن سکتے ہیں، کیا برآمد کنندگان نئی منڈیوں تک پہنچ سکیں گے، کیا نوجوانوں کو ملک کے اندر پیداواری روزگار مل سکے گا اور کیا پاکستان محض افرادی قوت برآمد کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی اور خدمات بھی برآمد کرسکے گا۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایسی تیز رفتار معاشی ترقی حاصل کرسکے گا جو دوبارہ فوری طور پر زرمبادلہ کے بحران کو جنم نہ دے۔
پاکستان نے کئی برس معاشی تباہی سے بچنے کا ہنر سیکھنے میں گزارے ہیں۔ اب آنے والی دہائی کو پائیدار، جامع اور بلند رفتار معاشی ترقی سیکھنے کے لیے وقف کرنا ہوگا۔
