مہا، بھارت — مہا کے جنگلات میں کوئلے کی کان کنی کے نئے منصوبوں کے خلاف مقامی ماؤں نے محاذ کھول دیا ہے۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ صنعتی سرگرمیوں کے باعث ان کے پانی کے ذخائر زہریلے ہو رہے ہیں اور مقامی ایکو سسٹم تباہی کے دہانے پر ہے۔
یہ تحریک مقامی قبائلی (آدی واسی) برادری کی خواتین کی قیادت میں چلائی جا رہی ہے۔ کشیدگی اس وقت بڑھی جب بھاری مشینری کو ان علاقوں میں داخل کیا گیا جنہیں پہلے ’کمیونٹی فاریسٹ لینڈ‘ کے طور پر محفوظ قرار دیا گیا تھا۔ ان خاندانوں کے لیے یہ جنگل محض درختوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ خوراک، ادویات اور صاف پانی کا واحد ذریعہ ہے۔
مقامی کمیونٹی لیڈر سنیتا دیوی، جو اس احتجاج کو منظم کر رہی ہیں، کہتی ہیں: "وہ قومی توانائی کی ضرورتوں کی بات کرتے ہیں، لیکن ہماری بقا کا کیا؟ ہمارے بچے دھات کے ذائقے والا پانی پینے پر مجبور ہیں اور فضا میں کوئلے کی گرد ہے۔ ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔”
ریاستی سطح کے صنعتی اداروں کی حمایت یافتہ یہ کان کنی کا منصوبہ گھنے جنگلات کے نیچے چھپے کوئلے کے ذخائر تک پہنچنا چاہتا ہے۔ سرکاری حکام کا مؤقف ہے کہ بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے یہ منصوبہ ناگزیر ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ پروجیکٹ میں ویسٹ اور گرد و غبار کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات شامل ہیں، تاہم مقامی لوگ اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
یہ تنازع ایک طرف وسیع تر صنعتی ایجنڈے اور دوسری طرف گاؤں والوں کی بنیادی بقا کے درمیان ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے یہ خطہ ماحولیاتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جہاں کان کنی کے پچھلے مراحل پہلے ہی درجنوں خاندانوں کو بے گھر کر چکے ہیں۔ مقامی ہیلتھ سینٹرز میں سانس کی بیماریوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کا تعلق ڈاکٹروں کی جانب سے کانوں سے اٹھنے والے باریک ذرات سے جوڑا جا رہا ہے۔
احتجاج کے باوجود، بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں کان کنی کرنے والی کمپنیوں نے علاقے کی صفائی کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ منصوبہ قانونی ہے اور اسے برسوں پہلے ماحولیاتی کلیئرنس مل چکی تھی۔
لیکن مہا کی ماؤں کے لیے کاغذی کارروائیاں خشک کنوؤں یا بیمار بچوں کا مداوا نہیں ہیں۔ جیسے جیسے بھاری مشینری کام کر رہی ہے، یہ احتجاج اب مقامی دھرنوں سے نکل کر ‘نیشنل گرین ٹربیونل’ میں قانونی چیلنج کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سنیتا دیوی کہتی ہیں: "ہم یہ وعدے پہلے بھی سن چکے ہیں۔ انہوں نے ہمیں نوکریوں کا لالچ دیا، پھر ہماری زمین چھین لی۔ اب وہ ہماری سانسیں لینا چاہتے ہیں۔ اب ہم ان کی ہمدردی کے منتظر نہیں رہیں گے۔”
