ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال اسلام آباد میں پیش آنے والے ہنگامہ خیز واقعے پر خود کو احتساب کے لیے پیش کر دیا ہے۔ یہ قدم بظاہر پارٹی کو اس تنازع سے بچانے کی ایک حکمت عملی ہے جس نے حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔
پمز اسپتال میں ہنگامہ آرائی اور سکیورٹی کی خلاف ورزی کے بعد پیدا ہونے والے دباؤ کے پیشِ نظر مصطفیٰ کمال کا یہ بیان اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسپتال جیسے حساس ادارے میں کارکنوں کے داخلے اور توڑ پھوڑ کے مناظر نے عوام میں شدید غم و غصے کو جنم دیا، جس کا اثر اب سیاسی ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔
"میں کسی بھی انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار ہوں،” مصطفیٰ کمال نے منگل کے روز صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے اپنی بات کو قانون کی بالادستی سے جوڑا، لیکن ساتھ ہی یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس حد تک تفتیشی عمل میں تعاون کریں گے۔
اسپتال میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور طبی سہولیات کی فراہمی کا نظام درہم برہم رہا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، مصطفیٰ کمال کا یہ بیان دراصل پارٹی کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی سے قبل خود کو شفاف ثابت کیا جا سکے۔
دوسری جانب، حزب اختلاف نے اس پیشکش کو محض ایک "سیاسی ڈرامہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ سے واقعے کی ذمہ داری سے نہیں بچا جا سکتا، جب تک کہ ملوث افراد کی نشاندہی اور ان کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ ہو۔
پولیس اس وقت اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ہنگامہ کرنے والوں کے چہروں کی شناخت کی جا سکے۔ اگرچہ تاحال کسی اعلیٰ سطحی قیادت کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوا، مگر تفتیشی ٹیمیں اس بات کا تعین کر رہی ہیں کہ یہ اشتعال انگیزی کس کے کہنے پر شروع ہوئی۔
مصطفیٰ کمال کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ نازک تعلقات نبھا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انکوائری رپورٹ صرف نچلی سطح کے کارکنوں تک محدود رہتی ہے یا اس کا دائرہ کار اوپر تک جاتا ہے۔
فیصلہ کن بات یہ ہے کہ قانون کا اطلاق صرف بیانات تک رہے گا یا پھر اسپتال کی تقدس پامال کرنے والوں کو واقعی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
