سندھ کے محکمہ تعلیم نے صوبے کے 3,481 سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل حاضری کا نظام نافذ کر دیا ہے۔ اب اسکولوں میں روایتی رجسٹروں کی جگہ بائیو میٹرک اور ٹیبلٹ بیسڈ سسٹم نے لے لی ہے، جس کا مقصد طلباء کی غیر حاضری اور اسکولوں میں "بھوت” اندراج کے مسائل پر قابو پانا ہے۔
اس نئے نظام کے تحت، جیسے ہی کسی طالب علم کی حاضری لگے گی، ڈیٹا خود بخود مرکزی سرور تک پہنچ جائے گا۔ اگر کوئی طالب علم اسکول نہیں پہنچتا، تو سسٹم خودکار طور پر اس کے والدین کو فوری طور پر ایس ایم ایس الرٹ بھیج دے گا۔ یہ اقدام اسکولوں میں حاضری کے ریکارڈ میں ہونے والی ہیرا پھیری کو روکنے کے لیے ایک بڑی کوشش ہے۔
برسوں سے صوبے کے دور دراز علاقوں میں اسکول انتظامیہ پر حاضری کے اعداد و شمار میں ردوبدل کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اب اساتذہ کو اسکول شروع ہونے کے پہلے گھنٹے کے اندر حاضری مکمل کرنا ہوگی۔ اگر ڈیٹا مقررہ وقت تک سنک نہیں ہوتا، تو متعلقہ اسکول کی انتظامیہ خود بخود آڈٹ کے دائرے میں آ جائے گی۔
تاہم، زمینی حقائق اس ٹیکنالوجی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ سندھ کے کئی دیہی علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر ٹیبلٹ چارج نہ ہوئے یا نیٹ ورک دستیاب نہ ہوا، تو یہ ڈیجیٹل نظام صرف ایک کاغذی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔
کراچی میں مقیم ایک ماہرِ تعلیم کا کہنا ہے کہ "ٹیکنالوجی صرف ایک ذریعہ ہے، حل نہیں۔ اگر کلاس روم میں اساتذہ کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان برقرار رہا، تو والدین کو صرف ایس ایم ایس بھیجنے سے معیارِ تعلیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔”
محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ وہ اگلے مالی سال کے اختتام تک اس نیٹ ورک کو صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں تک پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ فی الحال، اس پروگرام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ محکمہ ان علاقوں میں ہارڈ ویئر کی دیکھ بھال کیسے کرتا ہے جہاں بنیادی ڈھانچہ اکثر ناکارہ رہتا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حاضری نہ لگانے والے اساتذہ کے خلاف کیا کارروائی ہوگی، لیکن حکام کا اشارہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل ریکارڈ مستقبل میں اساتذہ کی کارکردگی اور مراعات کے تعین کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
