کوہ کیلاش کے پہاڑی سلسلوں میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے نیپال اور تبت کی سرحد پر ہزاروں زائرین کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ہندو، بدھ، جین اور بون مذاہب کے لیے انتہائی مقدس سمجھے جانے والے اس مقام تک جانے والے راستے لینڈ سلائیڈنگ اور پل ٹوٹنے کے باعث بند ہو چکے ہیں، جس سے سینکڑوں افراد دور دراز علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
سیلابی صورتحال کا آغاز گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہوا، جب اچانک بادل پھٹنے جیسے حالات نے پہاڑی نالوں کو بپھرے ہوئے دریاؤں میں بدل دیا۔ زائرین کا ایک بڑا گروہ جو کوہ کیلاش کے گرد طواف (کورا) میں مصروف تھا، راستے بند ہونے کے بعد اونچائی والے مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوا۔
نیپال کے ضلع ہملا میں موجود ایک مقامی عہدیدار نے بتایا کہ "موسم کی اچانک تبدیلی نے کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ کئی قافلے ایسے مقامات پر پھنسے ہیں جہاں مواصلاتی نظام بھی کام نہیں کر رہا۔”
اس علاقے کی جغرافیائی ساخت امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بلندی اور پتھریلے راستوں پر ہیوی مشینری پہنچانا ناممکن ہے، جبکہ خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی مسلسل معطل ہیں۔ زائرین کے پاس موجود کھانے پینے کا سامان ختم ہو رہا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق، ہمالیہ کے اس خطے میں اس سال مون سون کی بارشیں معمول سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر گئی ہیں۔ یہ موسمیاتی تبدیلی نہ صرف مقامی انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہی ہے بلکہ سیاحتی سیزن کو بھی شدید متاثر کر چکی ہے۔ ٹورازم کمپنیوں نے تمام تر بکنگز منسوخ کر دی ہیں، تاہم جو لوگ پہلے سے ہی پہاڑوں میں موجود ہیں، ان کی واپسی اب ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
تبت اور نیپال کے حکام کے درمیان رابطہ کاری کی کوششیں جاری ہیں، لیکن سرحد کے انتہائی دشوار گزار راستے امدادی ٹیموں کی نقل و حرکت کو سست کر رہے ہیں۔ ابھی تک کسی بڑی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسم کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو ریسکیو آپریشن میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔
کوہ کیلاش کی زیارت کے لیے آنے والے ان عقیدت مندوں کے لیے یہ سفر اب عقیدت سے زیادہ بقا کی جنگ بن چکا ہے۔ حکام نے زائرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فی الحال محفوظ مقامات پر رہیں اور کسی بھی صورت میں بند راستوں کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔
