کراچی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے میں شہریوں اور پولیس کی وردی میں ملبوس افراد کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ پولیس نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اعلیٰ حکام کے مطابق اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ افراد واقعی پولیس اہلکار تھے یا وردی کا غلط استعمال کر کے شہریوں کو ہراساں کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈی ایچ اے فیز 6 میں پولیس کی وردی اور ٹیکٹیکل گیئر میں ملبوس چند افراد ایک گاڑی کے سواروں سے تلخ کلامی کر رہے ہیں۔ بحث کے دوران معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا، جس کے دوران وردی پوش افراد کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال کیا گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کے لیے فوٹیج کو فرانزک اور تکنیکی جانچ کے عمل سے گزارا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم یہ جانچنے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ افراد ڈیوٹی پر تھے یا پھر کسی ذاتی تنازع پر پولیس کی وردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے تھے۔
ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم یہ تصدیق کر رہے ہیں کہ وردی اصلی تھی اور یہ افراد ہمارے فعال عملے کا حصہ ہیں یا نہیں۔ محکمہ وردی کے غلط استعمال پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتے گا۔”
کراچی کے رہائشیوں کے لیے یہ واقعہ کوئی نیا نہیں ہے۔ ڈی ایچ اے جیسے علاقوں میں نجی سیکیورٹی گارڈز اور بااثر افراد کے جھگڑے اکثر خبروں کی زینت بنتے ہیں، تاہم اس بار پولیس کی وردی کا استعمال اس واقعے کو زیادہ حساس بنا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس خود سڑکوں پر قانون ہاتھ میں لے گی تو عام آدمی کا تحفظ کون کرے گا؟
سول سوسائٹی کے حلقوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کے لیے سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف ملوث افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے بلکہ محکمہ پولیس میں احتساب کے نظام کو بھی شفاف بنایا جائے۔
تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ رواں ہفتے کے آخر تک ڈی آئی جی ساؤتھ کو پیش کرے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تحقیقات محض رسمی کارروائی ثابت ہوتی ہیں یا محکمہ اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کوئی ٹھوس قدم اٹھاتا ہے۔
