سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے صوبے میں مقامی حکومتوں کو مزید انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبائی دارالحکومت سمیت دیگر شہری مراکز میں میونسپل اداروں کی کارکردگی اور ان کے محدود اختیارات پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر شاہ نے کہا کہ حکومت ایک نئے فریم ورک پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد میئر اور ڈسٹرکٹ چیئرمینوں کو نچلی سطح پر فیصلے کرنے کا اختیار دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صفائی، پانی کی فراہمی اور شہری منصوبہ بندی جیسے معاملات اب براہِ راست منتخب نمائندوں کی نگرانی میں ہوں گے۔
"ہم ایسا نظام لا رہے ہیں جہاں مقامی نمائندوں کو ہر چھوٹے کام کے لیے صوبائی سیکریٹریٹ کی منظوری کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا،” ناصر شاہ نے دعویٰ کیا۔
ماضی میں اپوزیشن جماعتوں اور شہری حلقوں کی جانب سے یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت مقامی حکومتیں محض علامتی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے پاس نہ تو اپنے بجٹ کا مکمل کنٹرول ہے اور نہ ہی سرکاری عملے پر انتظامی اختیار۔ صوبائی حکومت کے حالیہ اعلان کو ان سیاسی دباؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم، اس اعلان کے ساتھ کچھ اہم سوالات بھی جڑے ہیں۔ وزیر بلدیات نے تاحال اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ اختیارات عملی طور پر کب منتقل ہوں گے اور کن محکموں کو مکمل طور پر بلدیاتی اداروں کے ماتحت کیا جائے گا۔ ماضی میں بھی ایسے وعدے کیے گئے لیکن صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کے مراحل کے دوران یہ تجاویز اکثر رکاوٹوں کا شکار رہیں۔
کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے رہائشیوں کے لیے یہ معاملہ براہِ راست زندگی کے معیار سے جڑا ہے۔ شہروں کی خستہ حال سڑکیں، نکاسی آب کا ناکارہ نظام اور پانی کی قلت وہ مسائل ہیں جن کا حل مقامی حکومتیں برسوں سے مانگ رہی ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ اعلان صرف سیاسی بیان بازی تک محدود رہتا ہے یا حکومت واقعی صوبائی بیوروکریسی کے مضبوط حصار کو توڑ کر اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا عملی قدم اٹھاتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ سندھ کی شہری سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
