کبل، سوات — سوات کے علاقے کبل میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جس میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے۔ پیر کی شب ہونے والے اس دھماکے نے عمارت کو مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بنا دیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔
دھماکہ غروبِ آفتاب کے فوراً بعد ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو خودکش حملہ آوروں نے تھانے کے احاطے میں داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ عمارت کی چھت گرنے سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا، کیونکہ دھماکے کے وقت اندر موجود پولیس اہلکار ملبے تلے دب گئے۔
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں نو پولیس اہلکار شامل ہیں، جبکہ باقی ہلاکتیں قریب موجود شہریوں کی ہیں۔
"ہم اب بھی ملبہ ہٹا رہے ہیں،” جائے وقوعہ پر موجود ایک اعلیٰ پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا۔ "مرکزی ہال کی چھت مکمل طور پر گر چکی ہے، اور ہم وقت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ کوئی اور تو نیچے نہیں دب گیا۔”
علاقے کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔ سیدو شریف ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹرز دھماکے سے زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ تاہم، گزشتہ ایک برس کے دوران خطے میں عسکریت پسندانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جنگ بندی معاہدوں کے خاتمے نے خیبر پختونخوا کے اس حصے میں عدم استحکام کو دوبارہ جنم دیا ہے۔
سوات کے رہائشیوں کے لیے یہ سانحہ ایک گہرا زخم ہے۔ دہائیوں تک بدامنی کا شکار رہنے والی اس وادی نے بڑی مشکل سے امن کا سفر طے کیا تھا، لیکن یہ حملہ ایک بار پھر سکیورٹی صورتحال پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔
حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ دو خودکش حملہ آور اتنی سکیورٹی کے باوجود سی ٹی ڈی کے حساس مرکز تک کیسے پہنچے؟ حکومت کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ انکوائری رپورٹ جاری نہیں کی گئی ہے۔
اس وقت تمام تر توجہ ملبے تلے دبے افراد کی بازیابی پر مرکوز ہے۔ ہسپتال کے باہر جمع لواحقین اپنے پیاروں کی خیریت کے منتظر ہیں، جن میں سے کئی کے لیے انتظار کی گھڑیاں اب مایوسی میں بدل رہی ہیں۔
