شدید گرمی کی لہر نے جنگلی حیات کے معمولات درہم برہم کر دیے ہیں۔ قدرتی پناہ گاہوں (نیچر ریزرو) میں ایسے نایاب جانور دن کی روشنی میں دیکھے جا رہے ہیں جو عام طور پر صرف رات کے اندھیرے میں ہی باہر نکلتے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے نے ان جانوروں کو چھپنے کی اپنی محفوظ جگہیں چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
صحرائی علاقوں کے قریب واقع ریزرو میں حکام نے بتایا کہ ریتلی بلی اور صحرائی جر بو جیسے جانور، جو اپنی انتہائی احتیاط کے لیے جانے جاتے ہیں، اب دوپہر کے وقت پانی کے ذخائر اور سایہ دار مقامات کی تلاش میں گھومتے نظر آ رہے ہیں۔ زمین کے اندر کا درجہ حرارت ناقابل برداشت ہونے کے باعث ان جانوروں کے لیے اپنے بلوں میں رہنا بھی خطرے سے خالی نہیں رہا۔
ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر ایلینا وینس کا کہنا ہے کہ "ہم ان جانوروں کو دن کے اجالے میں دیکھ رہے ہیں جنہیں ہم عام طور پر رات تین بجے انفراریڈ کیمروں میں بھی مشکل سے تلاش کر پاتے ہیں۔ یہ ان کی آبادی میں اضافے کا اشارہ نہیں، بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ یہ جانور اندھیرے کی حفاظت کو چھوڑ کر دن کی روشنی میں نکلنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے قدرتی ٹھکانے اب تپتے ہوئے تنور بن چکے ہیں۔”
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران نایاب جانوروں کے نظر آنے کی شرح میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ یہ صورتحال محققین کو آبادی کا تخمینہ لگانے کا موقع فراہم کر رہی ہے، لیکن اس کا دوسرا رخ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ سایہ دار مقامات تک پہنچنے کی جدوجہد میں یہ جانور اپنی توانائی ختم کر رہے ہیں، جس سے وہ شکاریوں اور تھکن کا شکار ہو کر موت کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔
گرمی صرف وقت ہی نہیں بدل رہی، بلکہ ان جانوروں کا مسکن بھی سکڑ رہا ہے۔ جو جانور وسیع علاقوں میں گھومتے تھے، اب وہ صرف چند بچے ہوئے پانی کے چشموں کے گرد سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ اس ہجوم کی وجہ سے بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے اور ان جانوروں کے درمیان علاقائی لڑائیاں بھی معمول بن گئی ہیں جو پہلے ایک دوسرے سے دور رہتے تھے۔
کنزرویشن ورکرز نے ان جانوروں کو بچانے کے لیے عارضی طور پر پانی کے چھڑکاؤ اور سایہ دار ڈھانچے نصب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ محض وقتی اقدامات ہیں۔ اگر گرمی کی لہروں کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا، تو وہ فطری خصوصیات جنہوں نے ان جانوروں کو صدیوں تک محفوظ رکھا، اب ان کی تباہی کا سبب بن جائیں گی۔
ڈاکٹر وینس نے مزید کہا کہ "ہمارے پاس ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے ایک محدود وقت ہے۔ لیکن ہر بار جب ہم دوپہر کی تپتی دھوپ میں کسی نایاب جانور کو دیکھتے ہیں، تو یہ احساس شدت اختیار کر جاتا ہے کہ ماحول انہیں برداشت کی آخری حد سے آگے دھکیل رہا ہے۔”
