یورپ اپنی خلائی صنعت میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلیاں لا رہا ہے۔ مقصد واضح ہے: سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے طویل انتظار کے وقت کو ختم کرنا اور خلا تک رسائی کے لیے غیر ملکی راکٹوں پر انحصار کم کرنا۔ یورپی اسپیس ایجنسی اب پرانے اور سست رو ماڈلز کو ترک کر کے ایک ایسے مسابقتی ڈھانچے کی طرف بڑھ رہی ہے جو امریکہ اور چین کی خلائی دوڑ کا مقابلہ کر سکے۔
اس تبدیلی کی بنیادی وجہ یورپ کی اپنی لانچنگ صلاحیت میں آنے والی کمی ہے۔ ‘اریان 5’ کی ریٹائرمنٹ اور ‘اریان 6’ کی تیاری میں تاخیر نے یورپ کو مہینوں تک زمین پر بند کر کے رکھ دیا۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے یورپی کمپنیوں کو مجبورا اسپیس ایکس کے ‘فیلکن 9’ راکٹوں کا سہارا لینا پڑا۔ یہ صورتحال یورپ کی "اسٹریٹجک خودمختاری” کے نعرے کے لیے ایک بڑا دھچکا تھی۔
کے ڈائریکٹر جنرل جوزف ایشباچر نے اس مسئلے پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اب خلا کو صرف سرکاری پروجیکٹ کے طور پر دیکھنے کا وقت گزر چکا ہے۔ وہ یورپی ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ نجی کمپنیوں جیسے جرمنی کی ‘آئسار ایرو اسپیس’ اور فرانس کی ‘مایا اسپیس’ کو سہولتیں دیں تاکہ وہ لاگت اور رفتار کے اعتبار سے عالمی منڈی میں کھڑے ہو سکیں۔
برسلز میں حکام اب ایک نئے "یورپی لانچ سروسز” ماڈل پر بحث کر رہے ہیں۔ یہ ماڈل کافی حد تک ناسا کے تجارتی شراکت داری والے فارمولے سے ملتا جلتا ہے۔ اگر یورپی یونین سرکاری سیٹلائٹس لانچ کرنے کا ٹھیکہ نجی کمپنیوں کو دے، تو ان اسٹارٹ اپس کو وہ مالی اعتماد مل سکے گا جس کی انہیں بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے ضرورت ہے۔
یہ صرف وقار کا مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی بقا کا سوال ہے۔ ایک سیٹلائٹ جتنے دن زمین پر کھڑا رہے گا، اتنا ہی اس کا منافع کم ہوتا جائے گا۔ بہت سی یورپی کمپنیاں وینچر کیپیٹل فنڈنگ کے بحران کا شکار ہیں کیونکہ وہ وقت پر اپنے سیٹلائٹ مدار میں نہیں پہنچا پا رہیں۔ اگر انہیں خلا تک رسائی نہ ملی تو یہ کمپنیاں اپنی ٹیکنالوجی ثابت کرنے میں ناکام ہو جائیں گی۔
البتہ، یورپی بیوروکریسی اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ فرانسیسی گیانا کے خلائی مرکز سے راکٹ لانچ کرنے کے لیے جن حفاظتی اور ماحولیاتی ضوابط سے گزرنا پڑتا ہے، وہ امریکہ کے نجی خلائی مراکز کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ان ضوابط کو آسان بنانا اب یورپی سیاست کا اگلا محاذ ہے۔
جولائی میں ‘اریان 6’ کی کامیاب پہلی پرواز نے یورپ کو کچھ امید تو دی ہے، لیکن صرف ایک کامیاب لانچ حکمت عملی نہیں بن سکتی۔ یورپ کو اب تسلسل کی ضرورت ہے۔ اگر یورپ اپنے راکٹوں کی تعداد اور رفتار میں اضافہ نہ کر سکا، تو اسے مستقل طور پر غیر ملکی راکٹوں کا کرایہ دار بن کر رہنا پڑے گا۔
