یومِ دفاعِ پاکستان (6 ستمبر) کے موقع پر حساس سرکاری تنصیبات اور ویب سائٹس پر سائبر حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی اداروں نے تمام متعلقہ محکموں کو اپنے ڈیجیٹل دفاع کو مضبوط بنانے کی سخت ہدایات دی ہیں۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، دشمن عناصر سرکاری پورٹلز کو ہیک کرنے، ویب سائٹس کو مسخ کرنے اور حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی کے ایک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "گزشتہ چند دنوں میں سرکاری نیٹ ورکس کی نگرانی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا مقصد یومِ دفاع کے موقع پر خلل ڈالنا ہے۔”
حکومتی احکامات کے تحت وفاقی اور صوبائی محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری ریموٹ ایکسس پروٹوکول معطل کریں اور تمام پاس ورڈز فوری تبدیل کریں۔ نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ نے ملازمین کو خبردار کیا ہے کہ وہ نامعلوم ای میلز اور مشکوک لنکس سے مکمل گریز کریں، کیونکہ ‘فشنگ’ حملوں میں تیزی کا خدشہ ہے۔
یہ خطرہ صرف سرکاری دفاتر تک محدود نہیں۔ بینکنگ اور توانائی کے شعبوں کو بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ مالی یا تکنیکی نقصان سے بچا جا سکے۔ اگرچہ ماضی میں بھی قومی تہواروں کے موقع پر ایسی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، لیکن اس بار سیکیورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ حملہ آوروں کا طریقہ کار زیادہ مربوط اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
حکومت کا بنیادی فوکس شہریوں کے ڈیٹا کا تحفظ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی فعالیت کو برقرار رکھنا ہے۔ اس وقت ملک کے تمام اہم ڈیجیٹل مراکز ‘وار فٹنگ’ پر کام کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا بروقت توڑ کیا جا سکے۔
یومِ دفاع کے موقع پر کسی بھی قسم کی ڈیجیٹل مداخلت ریاست کے لیے ایک بڑی شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی ادارے کسی بھی طرح کا رسک لینے کو تیار نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ الرٹ محض احتیاطی تدبیر ثابت ہوتا ہے یا چھ ستمبر کو کوئی بڑا ڈیجیٹل محاذ کھلتا ہے۔
