ایپل نے آئی او ایس 27 کے ساتھ آئی فون ہینڈ آف فیچر کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ یہ اپ ڈیٹ صارفین کو اپنے آئی فون پر جاری کام، میڈیا پلے بیک، اور ایپلیکیشنز کی موجودہ حالت کو بغیر کسی تاخیر کے میک یا آئی پیڈ پر منتقل کرنے کی سہولت دیتی ہے۔
ایپل کے انجینئروں نے اس بار پرانی ٹیکنالوجی سے ہٹ کر الٹرا وائیڈ بینڈ چپ کا استعمال کیا ہے۔ اب صارف کو کسی بٹن کو دبانے کی ضرورت نہیں۔ صرف اپنے فون کو لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ کے قریب لانے سے ہی ٹرانسفر کا عمل خود بخود شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کا ایک ایسا امتزاج ہے جو صارف کے تجربے کو انتہائی ہموار بناتا ہے۔
ماضی میں ہینڈ آف کا انحصار بلوٹوتھ اور آئی کلاؤڈ سنکنگ پر تھا، جس میں اکثر کنکشن ٹوٹنے یا ڈیٹا منتقل ہونے میں وقت لگنے کی شکایات رہتی تھیں۔ اب مقامی نیٹ ورکنگ اور اسپیشل اویرنس کی مدد سے یہ عمل سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں مکمل ہو جاتا ہے۔
رازداری کے ماہرین اس فیچر پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چونکہ یہ فیچر صارف کی موجودگی اور آلات کے فاصلے کو مسلسل مانیٹر کرتا ہے، اس لیے اس کے لیے یو ڈبلیو بی سینسر کا ہر وقت فعال رہنا ضروری ہے۔ ایپل کا مؤقف ہے کہ تمام ڈیٹا پروسیسنگ ڈیوائس کے اندر ہی ہوتی ہے اور کوئی بھی معلومات کلاؤڈ سرورز پر نہیں بھیجی جاتی۔
یہ اپ ڈیٹ فی الحال آئی فون 16 اور اس سے نئے ماڈلز کے لیے جاری کی گئی ہے۔ پرانے آئی فونز پر یہ فیچر کام تو کرے گا، لیکن انہیں "پروکسیمیٹی ٹرگر” یعنی قریب لانے سے خودکار منتقلی کی سہولت نہیں ملے گی؛ ان صارفین کو دستی طریقہ ہی اپنانا پڑے گا۔
ایپل کی یہ حکمت عملی واضح ہے: اپنے ایکو سسٹم کو اتنا مضبوط بنانا کہ صارف کے لیے ایپل کی مصنوعات چھوڑ کر کسی اور کمپنی کی طرف جانا مشکل ہو جائے۔ یہ فیچر ایک تکنیکی کامیابی تو ہے، لیکن کیا یہ عام صارف کے لیے واقعی کارآمد ثابت ہوگا یا صرف ایپل کے ہارڈ ویئر کے جال کو مزید گہرا کرے گا، اس کا فیصلہ آنے والے وقت میں صارفین کا ردعمل ہی کرے گا۔
