گجرات کے ضلع کھیڑا میں منگل کے روز ایک 35 سالہ خاتون کو بیدردی سے تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس دوران وہاں موجود ہجوم نے مداخلت کرنے کے بجائے اپنے موبائل فونز پر اس وحشیانہ منظر کو ریکارڈ کرنے کو ترجیح دی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کا مقامی سطح پر زمین کے تنازع پر جھگڑا چل رہا تھا۔ دن دہاڑے ہونے والے اس حملے میں حملہ آوروں نے لکڑی کے ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں کا استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون زمین پر گر کر تڑپتی رہی، جبکہ آس پاس کھڑے لوگ تماشائی بنے ویڈیو بناتے رہے۔
اس واقعے نے پورے بھارت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا سماج میں انسانی ہمدردی کا جذبہ دم توڑ چکا ہے؟
ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ "ویڈیو میں نظر آنے والے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دیگر مفرور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔”
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مقتولہ نے حملے سے چند گھنٹے قبل ہی قریبی پولیس اسٹیشن میں زمین کے تنازع کے حوالے سے شکایت درج کرائی تھی۔ پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی نہ کرنے پر دو کانسٹیبلز کو غفلت برتنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے۔
ویڈیو میں واضح ہے کہ حملہ آوروں نے خاتون کو بے سدھ کرنے کے بعد اطمینان سے موٹر سائیکلوں پر فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران ہجوم میں سے کسی ایک شخص نے بھی نہ تو اسے بچانے کی کوشش کی اور نہ ہی ایمبولینس کو طلب کرنے کی زحمت کی۔
احمد آباد کے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ایک مقامی حقوقِ انسانی کے کارکن نے کہا، "لوگ اب اصل زندگی کے المیوں کو سوشل میڈیا کے لیے ‘کونٹینٹ’ سمجھنے لگے ہیں۔ جب انسانی جان بچانے کے بجائے ریکارڈنگ کا جذبہ حاوی ہو جائے، تو یہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔”
مقتولہ پسماندگان میں تین بچے چھوڑ گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، بھارتی قوانین میں ان تماشائیوں کے خلاف کارروائی کی گنجائش بہت کم ہے جنہوں نے تشدد کو روکنے کے بجائے محض تماشا دیکھا۔
فی الحال گاؤں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ مقامی کمیونٹی ملزمان کے ساتھ ساتھ ان تماشائیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے جنہوں نے ایک انسانی جان کو تڑپتے ہوئے دیکھا مگر خاموش رہے۔
