کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کے سرجنز نے ایک انتہائی پیچیدہ آپریشن کے دوران 12 سالہ بچے کے دل میں پیوست گولی کامیابی سے نکال لی ہے۔ طبی ماہرین نے اسے ایک نایاب اور جان لیوا صورتحال سے نمٹنے کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
متاثرہ بچہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی کا نشانہ بنا تھا۔ گولی سینے کو چیرتی ہوئی دل کے پٹھوں میں جا دھنسی تھی، جس کے بعد اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ کیس اس لیے بھی مشکل تھا کہ گولی دل کے اہم حصوں کے قریب موجود تھی، جہاں معمولی سی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔
میڈیکل ٹیم نے فوری طور پر ‘تھوراکوٹومی’ (سینے کا آپریشن) کا فیصلہ کیا۔ سرجنز کو کئی گھنٹے تک انتہائی احتیاط کے ساتھ دل کے دھڑکتے ہوئے پٹھوں کے درمیان سے گولی نکالنا پڑی تاکہ دل کی شریانوں اور والوز کو نقصان نہ پہنچے۔
ہسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ "گولی کی پوزیشن ایسی تھی کہ آپریشن کے دوران دل کے افعال کو برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ ہم نے خون کے بہاؤ کو کنٹرول کرتے ہوئے گولی کو بحفاظت نکال لیا۔”
آپریشن کے بعد بچے کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچے کی حالت اب مستحکم ہے اور وہ تیزی سے بہتری کی طرف گامزن ہے۔
کراچی میں ہوائی فائرنگ اور آوارہ گولی لگنے کے واقعات آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اگرچہ این آئی سی وی ڈی میں دل کے امراض کا علاج روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے، تاہم بچوں کے دل میں گولی لگنے کا کیس اپنی نوعیت کا ایک الگ اور خطرناک واقعہ ہے۔
بچہ فی الحال ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی ہے اور طبی ماہرین کو توقع ہے کہ اگلے چند روز میں اسے ڈسچارج کر دیا جائے گا۔
