چین اور نیپال کے سرحدی علاقوں میں تباہ کن سیلاب کو 12 دن گزر چکے ہیں، مگر ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ تباہ حال دیہاتوں میں ملبے کے ڈھیر اور کیچڑ نے امدادی ٹیموں کی پیش قدمی ناممکن بنا دی ہے۔ اب یہ آپریشن ریسکیو سے زیادہ لاشوں کی تلاش میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔
تباہی کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ مقامی انتظامیہ کے وسائل ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ پہاڑی راستے مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے دور دراز کے علاقے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ بھاری مشینری متاثرہ علاقوں تک پہنچنے سے قاصر ہے، کیونکہ زمین کا توازن بگڑ چکا ہے اور مٹی کی موٹی تہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سخت اور خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔
متاثرہ خاندانوں میں حکومتی غفلت پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ نیپال کے دیہی علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہیلی کاپٹرز کی تعداد بڑھائی جائے اور تلاش کا کام تیز کیا جائے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں میں اگر بروقت کارروائی ہوتی تو شاید بہت سی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔
ایک متاثرہ شخص نے، جس نے اپنے پورے خاندان کو کھو دیا، بے بسی سے کہا: "بارش تھمے کئی دن ہو چکے ہیں، مگر کسی نے ہماری مدد نہیں کی۔ ہم اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں، لیکن یہ مٹی بہت بھاری ہے۔”
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ہزاروں افراد کا سراغ نہ ملنا ایک سنگین بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ پانی کی سطح کم ہونے کے ساتھ ہی لاشوں کے ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ مواصلاتی نظام کی تباہی نے ریسکیو ٹیموں کے درمیان رابطے کا خلا پیدا کر دیا ہے، جس سے امدادی کاموں میں مزید الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں۔
چین کی ایمرجنسی ٹیمیں سرحد پار کر کے نیپالی حکام کی مدد کر رہی ہیں، لیکن جغرافیائی رکاوٹیں ان کے جدید آلات کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہیں۔ ہمالیہ کی پہاڑیوں میں ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لیے بھی بھاری پتھروں اور تنوں کو ہٹانا پڑتا ہے، جس میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ بارشیں رک گئی ہیں، لیکن زمین میں نمی کی مقدار اب بھی خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ ہلکی سی بارش بھی نئے تودے گرنے کا سبب بن سکتی ہے، جو نہ صرف ملبے تلے دبے افراد بلکہ امدادی کارکنوں کی زندگیوں کے لیے بھی نیا خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔
امدادی کیمپوں میں بیٹھے خاندانوں کے لیے اب انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی جا رہی ہیں۔ ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ اب حکام کی توجہ اس مشکل کام کی طرف ہے کہ ان لاشوں کو کیسے نکالا اور شناخت کیا جائے، جنہیں پہاڑی نالوں اور کیچڑ نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
